کی ہے۔
یہ کتاب بنیادی طور پر پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں تمباکو کی حقیقت، اس کی ماہیت، خواص، تمباکو کی تاریخ، عرب مسلم ممالک اور برِّ صغیر میں اس کی آمد، تمباکو کی طبی حیثیت، تمباکو پر ہوئی تحقیقات، تمباکونوشی کے خلاف مہم کا جائزہ، تمباکو کی اسلام اور دیگر مذاہب میں حیثیت جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔
بابِ دوم میں تمباکو کے استعمال کے سلسلے میں علمائے احناف، علمائے مالکیہ، علمائے شوافع، علمائے حنابلہ اور سلفی علماء کی آراء پیش کی گئی ہیں ۔
تیسرے باب میں تمباکو کی حرمت کے سلسلے میں سبھی مسالک کے علماء کی آراء کا جائزہ لیا گیاہے۔
چوتھے باب میں تمباکو کے سلسلے میں مختلف مراکز ِ افتاء اور اہم شخصیات کے فتاویٰ پیش کیے گئے ہیں ۔
اور پانچویں و آخری باب میں مکمل تجزیہ پیش کیاگیاہے۔ کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ مصنف نے بڑی عرق ریزی سے کام لیاہے اور حوالہ جات کا بھی اہتمام کیاہے۔ زبان و بیان بھی بیحد سادہ اور عام فہم ہے۔ کتاب پر مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی، مدیر البعث الاسلامی ندوۃ العلماء لکھنؤ کا پیشِ لفظ ہے جب کہ مولانا محمد ظفیر الدین مفتاحی صاحب کی تقریظ ہے۔ جس سے کتاب کی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہوجاتاہے۔
ہمار ے حساب سے اس موضوع پر کام کرنے والوں اور اس لت میں مبتلا دونوں قسم کے لوگوں کے لیے یہ ایک بہترین کتاب ہے اور نشہ بندی کے تعلق سے جو کوششیں ملک و ملت میں ہورہی ہیں ، اس کتاب کے ذریعہ ان کو مؤثر بنایا جاسکتاہے۔
ماہنامہ ’’جدید النصیحہ‘‘ شمارہ جنوری ۲۰۰۴ء
تبصرہ بقلم ڈاکٹر مفتی احتشام الحق