صبر سے کام لیا اور ہمت نہیں ہاری۔
معراج:
بچو! اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے نبی ﷺ کو بیت المقدس اور ساتوں آسمانوں کی راتوں رات سیر کرائی جسے معراج کہتے ہیں۔ قرآن شریف میں اس کاذکرہے:
{سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا ط اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِیْعُ البَصِیْرُ۔}1
پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد ِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں، تاکہ ہم انھیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ ہر بات سننے والی، ہر چیز دیکھنے والی ذات ہے۔
اس واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ایک رات جب کہ آپﷺسورہے تھے جبرئیل ؑ تشریف لائے اورآپ کو جگایا، پھر آپ کاسینہ چاک کر کے آپ کے دل کو آبِ زم زم سے دھویا اور اس میں ایمان اور حکمت بھردی۔ پھر آپﷺکے پاس سفید رنگ کابراق لایا گیا جس پر آپﷺ کو سوار کیا گیا۔ حضرت جبرئیل ؑنے اس کی رکاب پکڑی، راستے میں آپ کو بہت سے عجائبات دکھائے گئے۔ براق نہایت تیز سواری تھی ، اس کا ایک قدم جہاں تک نگاہ جاتی تھی جا پڑتاتھا، آپ کو پہلے بیتُ المقدس پہنچایا گیا جہاں مسجد اقصیٰ میں آپ امام بنے اور آپ کے پیچھے تمام انبیاء نے نماز پڑھی، پھر تمام انبیا ؑ سے ملاقات کرائی گئی۔ اس کے بعد آسمان کاسفر شروع ہوا۔ اور ایک کے بعد دوسرے آسمان پر تشریف لے گئے، ہر آسمان پر کسی نہ کسی پیغمبر سے ملاقات ہوئی۔
پھر آپ کو سدرۃ المنتہیٰ کی طرف بلند کیا گیا یہاں تک کہ ایک مقام پر پہنچے تو حضرت جبریل ؑٹھہر گئے، اور ہمارے پیارے نبیﷺ سے کہا کہ اگر میں اس مقام سے آگے بڑھاتو نور سے جل جائوں گا،آگے میں نہیں جاسکتا، پھر آپ کو خدا کی قدرت سے مزید اوپر لے جایا گیا، یہاں تک کہ تمام انسانوں اور فرشتوں کی آہٹ ختم ہوگئی، یہاں تک کہ آپ عرش مُعلیٰ تک پہنچے اور آپ کو اللہ سے ہم کلامی کاشرف نصیب ہوا،اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے پیارے نبیﷺکو امت کے لیے جو تحفے دیے گئے وہ یہ ہیں:
۱۔ پانچ نماز یں فرض کی گئیں۔
۲۔ سورۂ بقرہ کاآخری رکوع دیا گیا۔
۳۔ جوشخص آپ کی اُمت میں سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرائے اس کے گناہ معاف کیے گئے۔
۴۔ اور یہ بھی وعدہ ہوا کہ جوشخص کسی نیکی کاارادہ کرے اور اس کو کرنے نہ پائے تو اس کی ایک نیکی لکھی جائے گی اور اگر اس کو کرلیا تو کم از کم دس نیکیاں کر کے لکھی جائیں گی۔ اور جوشخص بدی کاارادہ کرے اور پھر اس کو نہ کرے تو وہ بالکل نہ