ہمارے سامان کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور اس کو کھا گیا۔ ثبوت کے لیے ایک کرتا خون لگا ہوا باپ کو دکھایا۔ بوڑھے باپ کیاکرتے؟ صبر کیا، خاموش ہوگئے، لیکن بیٹے کی جدائی میں روتے رہے۔
بچو!جس کنویں میں حضرت یوسف ؑکو پھینکا تھا، اس کے قریب ہی سے ایک قافلہ گزرا اور انھوں نے پانی نکالنے کے لیے ڈول کنویں میں ڈالا۔ دیکھا کہ خوبصورت لڑکا کنویں میں ہے، ان کو باہر نکال لیا، جب یہ قافلہ مصر پہنچا تو وہاں پر مصر کے بادشاہ نے ان قافلے والوں کو تھوڑی قیمت دے کر حضرت یوسف ؑکو ان سے خرید لیا اور اپنی بیوی زلیخا سے کہا کہ اس کو پالو، ہوسکتا ہے کہ ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں۔
حضرت یوسف ؑ جو ان ہوگئے، ان کی خوبصورتی ووجاہت وعقلمندی اور بڑھ گئی۔ زلیخا عزیزِ مصر کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی اور ان کو ان کے نفس کی جانب سے پھسلانے لگی۔ ایک روز اس نے کمرے کے سارے دروازے بند کر دیے، حضرت یوسف ؑنے جب یہ حالت دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی اور دروازے کی طرف بھاگے، زلیخا نے پیچھے سے آپ کی قمیص پکڑلی، جس سے قمیص پھٹ گئی۔
اس وقت عزیز مصر یعنی زلیخا کاشوہر بھی دروازے پر آگیا، زلیخانے اُلٹا اِلزام حضرت یوسف ؑ پر لگا یا اور اپنے خاوند سے کہا کہ یہ شخص تیری بیوی کو بے آبرو کرنا چاہتا تھا جس کی اس کو سزا ملنی چاہیے۔ حضرت یوسف ؑ نے کہا: میں بے گناہ ہوں بلکہ یہ عورت مجھ کو پھسلانے کی کوشش کررہی تھی، مگر خدانے مجھ کو اس سے بچالیا۔ آخر یہ معاملہ قاضی کے پاس پیش ہوا۔ قاضی نے حضرت یوسف ؑسے صفائی کے لیے گواہ طلب کیے۔ حضرت یوسف ؑ نے عزیز مصر کے خاندان کے ایک معصوم اور ننھے بچے کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ اس وقت موجود تھا، یہ سچی گواہی دے گا، ننھے بچے نے کہا: اگر قمیص آگے سے پھٹی ہے تو یوسف مجرم ہیں اور اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو یوسف سچے ہیں اور زلیخا جھوٹی ہے۔ جب حضرت یوسف ؑکاکرتادیکھا گیا تو وہ پیچھے سے پھٹا تھا۔ عزیزِ مصر نے حضرت یوسف ؑسے کہا کہ اس بات کوجانے دو اور زلیخا سے کہا کہ تو معافی مانگ ، حقیقت میں تو ہی قصور وار ہے۔
عورتوں کی دعوت:
اس واقعہ کی خبر سارے مصر میں پھیل گئی اور عورتیں آپس میں باتیں کرنے لگیں کہ زلیخا اپنے غلام کو چاہتی ہے۔ جب زلیخا کو اس کاعلم ہوا تو اسے اپنی بدنامی کاخیال آیا، اس نے ترکیب سوچی، وہ یہ کہ اس نے مصر کی عورتوں کی دعوت کی اور سب کے ہاتھوں میں ایک ایک چھری اور ایک ایک پھل دے دیا اور اسی وقت حضرت یوسف ؑکو وہاں لے آئی، عورتوں نے جب حضرت یوسف ؑکے حسن وجمال اور خوبصورتی کو دیکھا تو وہ سب اپنے اپنے ہوش میں نہ رہیں اور چھریوں سے بجائے پھلوں کے اپنے ہاتھوں کوکاٹ لیا اور کہنے لگیں: واقعی یہ کوئی انسان نہیں فرشتہ