کا اصل مقصد غیر فرقہ داری کی ہلکی سی آڑ میں کسی مخصوص جماعت کا پروپیگنڈا کرنا ہے۔‘‘
(حرف اقبال ص۲۲۴،۲۲۵)
اور واقعہ یہ ہے کہ یہیں سے حضرت علامہؒ کی قادیانیت کے خلاف کھلی کھلی لڑائی کا آغاز ہوا۔ بقول محمد احمد خاں: ’’علامہ اقبالؒ نے کشمیر کمیٹی کے دوران قادیانیوں کی سرگرمیوں کا گہری نظر سے جائزہ لیا تھا اور کشمیر کمیٹی کے یہ واقعات اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ ان ہی واقعات کے بعد ڈاکٹر صاحب نے قادیانی تحریک کی سختی سے مخالفت کرنی شروع کی۔‘‘
(احرار اور تحریک کشمیر ص۱۶۱، بحوالہ اقبال کا سیاسی کارنامہ از محمد احمد خاں)
ذرا سے گریز کے ساتھ میں یہ کہنے کی بھی اجازت چاہوں گا کہ آیا کبھی پاکستان کے مسلمانوں نے اس امر پر غور کیا ہے کہ ہر پاک بھارت جنگ کے دوران کشمیر وقادیان سے ملحق سرحدات کی کمان قادیانی جرنیلوں ہی کے ہاتھ میں کیوں رہی ہے؟ ۱۹۶۵ء کی جنگ سے پہلے سرظفر اﷲ خاں (پاکستان کے سابق وزیرخارجہ) نے حضرت علامہ اقبالؒ کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال (جو آج کل پنجاب ہائی کورٹ میں جسٹس کے عہدہ پر فائز ہیں) کی معرفت اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں (مرحوم) کو یہ پیغام کیوں بھیجا کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کے لئے موزوں ہے۔ پاکستان کی فوج ضرور کامیاب ہوگی۔ جہاں تک ہندوستان کے ہاتھوں بین الاقوامی سرحد کے آلودہ ہونے کا تعلق ہے۔ ایسی کوئی چیز نہ ہوگی۔ (عجمی اسرائیل ص۳۵)
اور مشہور قادیانی جرنیل لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک (موجودہ) لیفٹیننٹ جنرل عبدالعلی ملک کے بڑے بھائی جو انقرہ میں کسی حادثہ میں ہلاک ہوگئے اور جن کی نعش وہاں سے لاکر (ربوہ) چناب نگر دفن کی گئی تھی۔ یہ انتہائی خواہش وکوشش کس غرض سے تھی کہ اس وقت کے گورنر ملک امیر محمد خان صدر ایوب کو اس بات پر آمادہ کریں کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کے لئے بہترین ہے۔ یقین ہے کہ ہم کشمیر حاصل کر پائیں گے۔ (عجمی اسرائیل ص۳۴)
صرف یہی نہیں بلکہ قادیانی مصلح موعود کی یہ پیشین گوئی بھی ان دنوں نہایت اہتمام کے ساتھ آزاد کشمیر میں پھیلا دی گئی کہ ریاست جموں وکشمیر آزاد ہوگی اور اس کی فتح ونصرت قادیانیت کے ہاتھوں ہوگی اور قادیانی اب بھی یہی پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ کشمیر قادیانی سورماؤں ہی کے ہاتھوں فتح ہوگا۔ آخر یہ سب کیا ہے؟ ظاہر ہے قادیانی ایک وقت میں کئی کھیل کھیلتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی دائرے میں بہرحال سیاسی اقتدار چاہتے ہیں یا پھر انہیں سیکولر گورنمنٹ ہی برداشت کر سکتی ہے۔ بصورت دیگر وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی سیاست