مذکورہ دوائر میں حرکت کرتی ہے۔ کشمیر پر قادیانیوں کی نظر اسی لئے ہے کہ اس طرح وہ کشمیر میں پہلے سے موجود قادیانی اثرات سے فائدہ اٹھا کر اپنا اقتدار قائم کر سکتے ہیں اور پھر کشمیر میں ان کے پیغمبر کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر بھی ہے۔ (کشتی نوح ص۱۵، خزائن ج۱۹ ص۱۶) جسے وہ اپنے تئیں مرزاغلام احمد قادیانی کی صداقت کا ایک بڑا نشان سمجھتے ہیں۔ پھر اسی ریاست سے ہم آغوش ان کے پیغمبر کی جائے پیدائش ہے۔ جسے وہ دارالامان کہتے (بلدۃ الامین مکہ مکرمہ اور دارالہجرت مدینہ منورہ کا ہم پلہ بلکہ ان سے بھی افضل قرار دیتے)
(الفضل قادیان مورخہ ۱۱؍دسمبر ۱۹۳۲ئ، حقیقت الرؤیا ص۴۶)
اور اپنی جماعت کا خداتعالیٰ کی طرف سے ٹھہرایا ہوا دائمی مرکز سمجھتے ہیں۔
(انوار خلافت ص۱۱۷)
اور ان کا خیال ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی پیش گوئی کے مطابق قادیان قادیانیوں کو ضرور ملے گا۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ذہنوں میں بھی یہی بات راسخ کرتے ہیں۔ چنانچہ راہ ایمان کے نام سے قادیانی بچوں کے لئے ابتدائی دینی معلومات کے مجموعہ کے ص۹۸ پر قادیان سے ہجرت کی پیش گوئی کے زیر عنوان لکھا ہے: ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزاغلام احمد قادیانی) کو خدا نے الہام اور خواب کے ذریعے بتایا تھا کہ کسی زمانے میں جماعت احمدیہ کو قادیان سے نکلنا پڑے گا اور خشک پہاڑیوں والے ایک اونچے علاقہ میں اسے اپنا دوسرا مرکز بنانا پڑے گا۔ یہ حالت عارضی ہوگی۔ آخر ایک وقت آئے گا کہ قادیان جماعت احمدیہ کو واپس مل جائے گا۔ پیش گوئی کا ایک حصہ ۱۹۴۷ء میں پورا ہوگیا… اور ہر احمدی کا ایمان ہے کہ پیش گوئی کا آخری حصہ بھی ضرور پورا ہوگا اور قادیان جماعت احمدیہ کو انشاء اﷲ ضرور واپس ملے گا۔‘‘
قارئین! خود اندازہ فرمائیں کہ یہ کس طرح ممکن ہوگا؟ کیا حیدرآباد، جونا گڑھ، منادر اور کشمیر کو ہڑپ کرنے والا بھارت قادیان دے گا؟ قادیانی بزور بازو فتح کریں گے؟ یا بڑی طاقتوں کی معرفت یہ پیش گوئی پوری ہوگی؟ آخر قادیان قادیانیوں کو کس طرح ملے گا؟ بہرحال قادیانیوں کے یہی وہ سیاسی عزائم تھے جنہیں کشمیر موومنٹ نے بے نقاب کیا اور حضرت علامہؒ انہیں اسلام اور ملک کا غدار قرار دینے پر مجبور ہوگئے۔
۳… قادیانی جب دلیل کے میدان میں عاجز آجاتے ہیں تو پھر یوں پینترا بدلتے ہیں: ’’اپنی عمر کے آخری حصہ میں علامہ اقبالؒ نے جماعت احمدیہ سے اختلاف کیا۔ لیکن اہل بصیرت جانتے ہیں کہ اس کے وجوہ سیاسی تھے۔‘‘ (احمدیت علامہ اقبال کی نظر میں ص۱۴)