ساتھ ہی جب یہ بات ان کے علم میں آئی کہ کشمیر کمیٹی کے صدر (مرزامحمود) اور سیکرٹری (عبدالرحیم) دونوں وائسرائے اور دیگر اعلیٰ برطانوی حکام کو خفیہ اطلاعات بہم پہنچانے کا نیک کام بھی کرتے ہیں۔ (پنجاب کی سیاسی تحریکیں ص۲۱۰، عبداﷲ ملک)
تو انہوں نے اس کا انتہائی سختی سے نوٹس لیا اور مرزامحمود کو کمیٹی کی صدارت چھوڑ دینے پر مجبور کردیا۔ قادیانیوں کی منافقت کے ہاتھوں عاجز آکر خود استعفاء دے دیا۔ کمیٹی تک توڑ ڈالی۔ اس موقع پر حضرت علامہؒ نے جو بیان جاری کیا اس کا یہ حصہ خاص طور پر بڑا دلچسپ اور اہم ہے: ’’بدقسمتی سے کمیٹی میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے مذہبی فرقے کے امیر کے سوا کسی دوسرے کی اتباع کرنا سرے سے گناہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ قادیانی وکلاء میں سے ایک صاحب نے جو میرپور کے مقدمات کی پیروی کر رہے تھے۔ حال ہی میں اپنے ایک بیان میں واضح طور پر اس خیال کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ وہ کسی کشمیر کمیٹی کو نہیں مانتے اور جو کچھ انہوں نے یا ان کے ساتھیوں نے اس ضمن میں کیا وہ ان کے امیر کے حکم کی تعمیل تھی۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں نے ان کے اس بیان سے اندازہ لگایا کہ تمام قادیانی حضرات کا یہی خیال ہوگا اور اس طرح میرے نزدیک کشمیر کمیٹی کا مستقبل مشکوک ہوگیا۔ میں کسی صاحب پر انگشت نمائی نہیں کرنا چاہتا۔ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دل ودماغ سے کام لے اور جو راستہ پسند ہو اسے اختیار کرے۔ حقیقت میں مجھے ایسے شخص سے ہمدردی ہے جو کسی روحانی سہارے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے کسی مقبرہ کا مجاور یا کسی زندہ نام نہاد پیر کا مرید بن جائے… ان حالات کے پیش نظر مجھے اس امر کا یقین ہے کہ کمیٹی میں اب ہم آہنگی کے ساتھ کام نہیں ہوسکتا اور ہم سب کا مفاد اسی میں ہے کہ موجودہ کشمیر کمیٹی کو ختم کر دیا جائے۔‘‘ (حرف اقبال ص۲۲۱،۲۲۲)
قادیانیوں نے حضرت علامہؒ کی ایک تجویز جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیری بھائیوں کی مدد کے لئے ایک کھلے عام اجلاس میں ایک نئی کشمیر کمیٹی کی تشکیل کر لی جائے۔ (حرف اقبال ص۲۲۳)
کا سہارا لے کر کشمیر کمیٹی کے نام سے پھر دام ہمرنگ زمین بچھانا چاہا۔ اس کی صدارت کی پیش کش کر کے حضرت علامہؒ کو پھانسنا چاہا۔ مگر انہوں نے نہایت سختی وحقارت کے اسے بھی مسترد کر دیا۔ فرمایا: ’’مجھے صرف صدارت کے قبول کرنے ہی سے اصولی اختلاف نہیں۔ بلکہ میں تو ایسی پیشکش کے متعلق سوچنا ہی غلط سمجھتا ہوں اور میرے اس رویہ کی وجوہات وہی ہیں جن کی بناء پر میں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی نئی تشکیل ہونی چاہئے… میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان حالات کے پیش نظر ایک مسلمان کس طرح ایک ایسی تحریک میں شامل ہوسکتا ہے۔ جس