کہ: ’’امیر عبدالرحمن خاں نے مولوی عبدالرحمن کو، امیر حبیب اﷲ خاں نے مولوی عبداللطیف رئیس خوست کو اور شاہ امان اﷲ خان نے مولوی نعمت اﷲ کو محض احمدیت قبول کرنے کی پاداش میں تختۂ دار پر لٹکادیا تھا۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۲۵؍اکتوبر، ۴؍ستمبر ۱۹۲۴ئ)
خلیفۃ المسیح مرزامحمود احمد نے فرمایا کہ: ’’جب روئے زمین میں ہماری سلطنت قائم ہوگی تو احمدی اس کا انتقام لیں گے۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۱۵؍اکتوبر ۱۹۲۴ئ)
اب میں اپنے دعوے کے ثبوت میں مرزائی بیانات درج ذیل کرتا ہوں۔
ساری دنیا کو مرزائی بنانے کا حوصلہ
’’مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو وحی ہوئی کہ روئے زمین کے مسلمانوں کو دین واحد پر جمع کرو۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۲۱؍اگست ۱۹۲۴ئ)
’’مسیح موعود نے پیشین گوئی کی تھی کہ عیسائی مذہب تین سو سال میں احمدیت میں تبدیل ہو جائے گا۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۲۴ئ)
’’مسیح موعود نے فرمایا کہ ساری دنیا میں احمدیت ہی احمدیت پھیل جائے گی۔‘‘
(الفضل قادیان مورخہ ۲۸؍اگست ۱۹۲۴ئ)
مرزامحمود احمد نے ایٹ ہوم کے مضمون میں بیان کیا کہ: ’’حضرت مسیح موعود دنیا کو دین واحد پر جمع کرنے کے لئے آئے تھے اور یہ عظیم الشان مقصد ہے۔ حضرت مسیح موعود کے مقصد اتحاد میں لاشرقیہ ولامغربیہ کی شان ہے۔ وہاں مشرق مغرب نہیں بلکہ کل دنیا کو ایک دین پر جمع کرنا ہے۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۲۷؍ستمبر ۱۹۲۴ئ)
’’مورخہ ۴؍ستمبر ۱۹۲۴ء کو خلیفۃ المسیح مرزامحمود نے دو احمدی مبلغوں کو لندن کے ترکی سفیر کے پاس احمدیت کی تبلیغ کے لئے بھیجا۔ سفیر خود تو موجود نہیں تھا۔ البتہ نائب سفیر موجود تھا۔ مبلغوں نے اسی کو احمدیت کی دعوت دینی شروع کر دی۔ جب اس کو یورپ اور دیگر ممالک مغربیہ میں سلسلہ احمدیہ کی اشاعت کی پیش گوئی اور ان میں حکومت احمدیہ کے قائم ہوجانے کی پیش گوئی سنائی گئی تو اسے تعجب ہوا۔ مغربی ممالک میں اسلام پھیل جانے کے متعلق اس نے دریافت کیا کہ کتنے عرصے میں ہوگا تو مسیح موعود کی تحریروں کی بنابر اسے بتایا گیا کہ تین صدیوں میں اس کا کامل ظہور ہو جائے گا۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۷؍اکتوبر ۱۹۲۴ئ)