حضرت علامہؒ کو اس بات کا ہمیشہ افسوس رہا کہ قادیانی فتنہ کو سمجھنے کی تعلیم یافتہ مسلمانوں نے کوئی کوشش نہیں کی۔ بقول ان کے مغربیت کی ہوا نے ان لوگوں کو حفظ نفس کے جذبہ سے بھی عاری کر دیا ہے۔ (حرف اقبال ص۱۲۴)
اس کے مضرات کو اگر کسی نے سمجھایا اس کے خلاف سرگرمی دکھائی تو بقول حضرت علامہؒ وہ عام مسلمانوں کا طبقہ تھا جسے تعلیم یافتہ مسلمان ملا زدہ کا خطاب دیتا ہے… اور اگر آج پڑھا لکھا طبقہ اس نئی امت اور اس کے مفاسد کو کچھ کچھ سمجھ رہا ہے تو یہ برس ہابرس کی جدوجہد اور بہت سے تلخ تجربات ومشاہدات کا ثمر ہے۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ یہ طبقہ عالمی استعمار کے اس مہرے کے خلاف زبان کھولنے سے اب بھی ہچکچاتا اور منہ موڑتا ہے۔ بہرحال اگر ہمارے تعلیم یافتہ طبقے یا نام نہاد روادار مسلمان نے اپنا یہ طرز عمل تبدیل نہ کیا تو وقت انہیں خود ایسا کرنے پر مجبور کر دے گا۔
چند شبہات اور ان کا ازالہ
قادیانی میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو، کے مصداق سادہ لوح مسلمانوںکو یہ کہہ کر اکثر دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ علامہ اقبال تو قادیانی تحریک کو ٹھیٹھ اسلامی تہذیب کا نمونہ سمجھتے تھے۔ دیکھو ان کا خطبۂ علی گڑھ ۱۹۱۰ء فلاں صفحہ فلاں سطر اور ۲۹؍ستمبر ۱۹۰۰ء کی فلاں تحریر میں انہوں نے مرزاغلام احمد قادیانی کو جدید ہندی مسلمانوں کا سب سے بڑا دینی مفکر قرار دیا۔ قادیانیوں کے پاس لے دے کر یہی دو حوالے ہیں جن کی مدد سے وہ حضرت علامہؒ کو قادیانی تحریک کا ہمنوا ثابت کرتے ہیں۔
اب سنئے! اس کی حقیقت کیا ہے؟ پہلی عبارت تو واقعتا حضرت علامہؒ کی ایک ترجمہ شدہ کتاب ملت بیضاء پر ایک عمرانی نظر میں موجود ہے۔ دوسری جو رسالہ انڈین اینٹی کویری کے حوالہ سے پیش کی جاتی ہے۔ ابھی تک میری نظروں سے نہیں گزری اور قادیانیوں پر اس بارے میں زیادہ اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ بہرحال عبارت پہلی ہو یا دوسری (قطع نظر اس بات کے کہ یہ صحیح ہے یا نہیں) اوّل تو ان میں مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت کا اثبات نہیں۔ دوسرا جب وہ خود ان کی نفی کر چکے ہیں تو پھر ان سے دلیل پکڑنا یا انہیں حجت ٹھہرانا کیسا؟ مثلاً وہ اپنی ۱۹۱۰ء کی عبارت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جہاں تک مجھے یاد ہے یہ تقریر میں نے ۱۹۱۱ء یا اس سے قبل کی تھی اور مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ اب سے ربع صدی پیشتر مجھے اس تحریک سے اچھے نتائج کی امید تھی۔ اس تقریر سے بہت پہلے مولوی چراغ مرحوم نے جو مسلمانوں میں کافی سربرآوردہ تھے اور انگریزی میں اسلام پر بہت سی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ بانی ٔ تحریک