خالصتاً مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی خاطر اٹھنے والی تحریک… تحریک کشمیر ۱۹۳۱ء کی صدارت انہوں نے حضرت امام جماعت احمدیہ خلیفۃ المسیح الثانی مرزابشیرالدین محمود احمد قادیانی کو کیوں پیش کی؟ اور پھر اس جھوٹ پہ جھوٹ کھڑا کرتے ہوئے کہا جاتا ہے۔ یہ بات علامہ کے ان گہرے روابط اور اس موانست کو ظاہر کرتی ہے جو وہ جماعت احمدیہ سے رکھتے تھے۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا؟
حالانکہ نہ حضرت علامہؒ نے مرزامحمود کا نام تجویز کیا اور نہ ہی وہ قادیانیوں سے کوئی ربط یا انس رکھتے تھے۔ قادیانی جو چاہیں کہیں، حضرت علامہؒ نے قادیانیت پر جو ضرب کاری لگائی قادیانی آج تک اسے نہیں بھلا سکے ہیں اور عبدالمجید سالک کو بھی اپنی تمام ترقادیانیت نوازی کے باوجود یہ لکھنا پڑا ہے کہ ردقادیانیت میں حضرت علامہؒ نے بعض ایسے نکات پیش کئے جن کا جواب اب تک کسی سے نہیں ہوسکا۔ (ذکر اقبالؒ ص۲۱۱، عبدالمجید سالک)
واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت علامہؒ نے کشمیر کمیٹی میں شمولیت اختیار کی تو ان کے سامنے صرف اور صرف مظلومین کشمیر کا مسئلہ تھا۔ جو برسہا برس سے ڈوگرا حکمرانوں کے ظلم وستم اور جبروتشدد کا شکار تھے۔ وہ قادیانی نبوت یا خلافت پر مہر تصدیق ثبت کرنا نہیں چاہتے تھے۔ حضرت علامہؒ کو چونکہ خطۂ کشمیر سے قلبی لگاؤ تھا اور یہ ارض چنار ان کے آباؤ اجداد کا وطن تھی۔ اس لئے کشمیریوں کے ساتھ جذبات ہمدردی کی شدت میں وہ مرزابشیرالدین محمود کے سیاسی عزائم کو نہ بھانپ سکے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اور ان کی طرح دیگر مسلمان عمائدین قادیانیوں کے انگریزوں کے ساتھ خصوصی تعلقات کے پیش نظر یہ امید بھی کرتے ہوں کہ قادیانی خلیفہ اپنے آقاؤں سے کشمیری مسلمانوں کو بعض حقوق دلانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ مگر جب انہوں نے دیکھا کہ مرزامحمود نے اپنے لامحدود اختیارات، لامحدود اس لئے کہ جب کمیٹی کی تشکیل ہوئی تو یہ خیال کرتے ہوئے کہ اس کا قیام عارضی ہوگا۔ سرے سے اس کا کوئی دستور ہی نہ بنایا گیا اور بقول حضرت علامہؒ صدر (مرزامحمود) کو آمرانہ اختیارات دے دئیے گئے۔ (حرف اقبال ص۲۲۱)
مرزامحمود نے ان اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کشمیر کمیٹی کو قادیانیوں کی ذیلی شاخ بنا کر رکھ دیا اور عام مسلمانوں کے چندے سے قادیانی مبلغ سارے کشمیر میں پھیلا دئیے۔ (چنانچہ یہ اسی زمانے کی جدوجہد کا ثمر ہے کہ آج بھی کشمیر میں اس جماعت کے اچھے خاصے اثرات پائے جاتے ہیں) اور نہ صرف طول وعرض کشمیر بلکہ پوری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹا کہ تمام اسلامی ہند نے اسے اپنا لیڈر مان کر اس کے باپ مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت کی تصدیق کر دی ہے اور اس کے