منبع فرنگی انتداب کے حق میں الہامی سند، مرزاغلام احمد قادیانی کو چنگیز اور قادیانیوں کو اسلام اور ملک کا غدار قرار دے کر مسلمانوں سے الگ کر دینے کا پرزور مطالبہ کیا اور یورپ تک اس فتنے کا تعاقب کیا۔
یہاں میں قارئین کی توجہ مرزاغلام احمد قادیانی کے فرزند اور قادیانی تحریک کے ایک اہم ستون مرزابشیر احمد ایم۔اے کی اس تحریر کی جانب مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں۔ جس میں وہ کہتے ہیں: ’’ڈاکٹر سر محمد اقبال جو سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا۔ شیخ نور محمد صاحب نے غالباً ۱۸۹۱ء یا ۱۸۹۲ء میں مولوی عبدالکریم مرحوم اور سید حامد شاہ صاحب مرحوم کی تحریک پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزاغلام احمد قادیانی) کی بیعت کی تھی۔ ان دنوں سر محمد اقبال سکول میں پڑھتے تھے اور اپنے باپ کی بیعت کے بعد وہ بھی اپنے آپ کو احمدیت میں شمار کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معتقد تھے۔ چونکہ سر اقبال کو بچپن سے شعروشاعری کا شوق تھا۔ اس لئے ان دنوں میں انہوں نے سعد اﷲ لدھیانوی کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں ایک نظم بھی لکھی تھی۔ مگر اس کے چند سال بعد جب سراقبال کالج میں پہنچے تو ان کے خیالات میں تبدیلی آگئی اور انہوں نے اپنے باپ کو سمجھا بجھا کر احمدیت سے منحرف کر دیا۔ چنانچہ شیخ نور محمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا۔ جس میں یہ تحریر کیا کہ آپ میرا نام اس جماعت سے الگ رکھیں۔ اس پر حضرت صاحب کا جواب میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے نام گیا۔ جس میں لکھا تھا کہ شیخ نور محمد کو کہہ دیویں کہ وہ جماعت سے ہی الگ نہیں بلکہ ا سلام سے بھی الگ ہیں۔ ڈاکٹر سر محمد اقبال اپنی زندگی کے آخری ایام میں (احمدیت کے) شدید طور پر مخالف رہے اور ملک کے نوتعلیم یافتہ طبقہ میں احمدیت کے خلاف جو زہر پھیلا ہوا ہے اس کی بڑی وجہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کا مخالفانہ پروپیگنڈا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی ج۳ ص۲۴۹،۲۵۰، بروایت نمبر۸۵۸)
فرمائیے! اس کے بعد ۱۹۰۰ء کی کسی عبارت یا خطبۂ علی گڑھ کے سہارے قائم کئے گئے کسی استدلال میں کیا وزن رہ جاتا ہے؟ حیرت ہے کہ جس دور کو حضرت علامہؒ اپنا دور جاہلیت قرار دیتے رہے۔ اس کی ایک آدھ تحریر تو قادیانیوں کے لئے حجت اور سند کا درجہ رکھتی ہے۔ مگر جس عمر میں وہ پختہ ہوکر مسلمانوں کی محبوب فکری متاع بن چکے تھے۔ اس عمر کی متاع فکر سے گریز وفرار اختیار کیا جاتا یا صریحاً انکار کر دیا جاتا ہے۔ یا للعجب!
۲… یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ اگر حضرت علامہؒ قادیانیوں کو مسلمان نہ سمجھتے تھے تو پھر