کے ساتھ تعاون کیا اور جہاں تک مجھے معلوم ہے کتاب موسومہ براہین احمدیہ میں انہوں نے بیش قیمت مددبہم پہنچائی۔ لیکن کسی مذہبی تحریک کی اصل روح ایک دن میں نمایاں نہیں ہو جاتی۔ اچھی طرح ظاہرہونے کے لئے برسوں چاہئیں۔ تحریک کے دو گروہوں۸؎ کے باہمی نزاعات اس امر پر شاہد ہیں کہ خود ان لوگوں کو جو بانی ٔ تحریک کے ساتھ ذاتی رابطہ رکھتے تھے۔ معلوم نہ تھا کہ تحریک آگے چل کر کس راستہ پر پڑ جائے گی؟ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا تھا جب ایک نئی نبوت، بانی ٔ اسلام کی نبوت سے اعلیٰ ترنبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرتﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ درخت جڑسے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر میرے موجودہ رویہ میں کوئی تناقض ہے تو یہ بھی ایک زندہ اور سوچنے والے انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے بدل سکے۔ بقول ایمرسن صرف پتھر اپنے آپ کو نہیں جھٹلا سکتے۔‘‘
(حرف اقبال ص۱۳۱،۱۳۲)
دراصل حضرت علامہؒ کی پہلی رائے قادیانیت کے ظاہری خول اور اس کے پروپیگنڈے پر مبنی تھی اور اگر اس دور کے پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ کوئی ایسی تعجب خیزبات نہیں۔ یہ تو ایک عمومی تاثر تھا جو آریوں اور عیسائیوں کے ساتھ مرزاغلام احمد کے اس وقت کے نام نہاد۹؎ مناظروں اور مباحثوں سے پیداہوگیا اور ایک حضرت علامہؒ ہی پر کیا موقوف تب پنجاب کے اکثر مسلمان اسی غلط فہمی کا شکار تھے۔ وہ ایک پرجوش مبلغ ومناظر کی حیثیت سے مرزاغلام احمد قادیانی کو اسلام کا مخلص اور مسلمانوں کا بہی خواہ خیال کرتے۔ خود حضرت علامہؒ کے گردوپیش حتیٰ کہ ان کے والد (شیخ نور محمد) اور بڑے بھائی (شیخ عطاء محمد) تک مرزاغلام احمد قادیانی سے متأثر تھے۔ بلکہ شیخ نور محمد صاحب نے تو مرزاقادیانی کی بیعت بھی کی ہوئی تھی۔ مگر جب مرزاغلام احمد قادیانی کے مخفی عزائم ودعاوی بے نقاب ہوئے تو مسلمانوں کا سواداعظم ان سے الگ ہوگیا نہ صرف الگ ہوگیا بلکہ قادیانی تحریک کو اپنی وحدت ملی کے خلاف ایک سازش سمجھتے ہوئے اس کی زبردست مزاحمت بھی کرنے لگا۔ ان حالات کا حضرت علامہؒ اور ان کے گردوپیش پر اثر انداز ہونا ناگزیر تھا۔ چنانچہ حضرت علامہؒ نے اپنی اس رائے سے جو محض قادیانی تحریک کے ظاہر سے متأثر ہوکر قائم کی گئی تھی رجوع کر لیا۔ ان کے والد شیخ نورمحمد نے بھی قادیانی تحریک سے اپنی وابستگی ختم کر دی۔ بڑے بھائی بھی بیزار ہوگئے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب حضرت علامہؒ نے قادیانیت کو برگ حشیش، غارت گر اقوام وفتنہ ملت بیضاء قوت فرعون کی درپردہ مرید، یہودیت کا مثنیٰ، انتشار کا