بسم اللہ الرحمن الرحیم
پیش لفظ
مال ودولت اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے، مال کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور جنت جیسی لازوال نعمت حاصل کی جاسکتی ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر وفاقہ اور قرض سے پناہ مانگی ہے۔
آپ کا فرمان ہے کہ بہت ممکن ہے کہ فقر وفاقہ کفر تک پہنچادے، اور یہ مال ودولت فقر وفاقہ سے حفاظت کا ذریعہ ہے، حضرت حسن بصریؒ کا مقولہ مشہور ہے کہ اگر میرے پاس مال نہ ہوتا تو لوگ مجھے اوڑھنا بچھونا بنا لیتے، اپنی اغراض میں مجھے استعمال کرتے۔
الغرض مال دولت اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، اور ہر نعمت کے کچھ حقوق وآداب بھی ہوتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ قیامت کے روز کسی شخص کے قدم اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے جب تک اس سے اس سوال کا جواب نہ لے لیا جائے کہ تو نے مال کہاں اور کیسے کمایا، اور کن مواقع میں خرچ کیا، اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کمانے اور خرچ کرنے کے طریقے بھی بیان فرمائے ہیں ۔ اور ہر زمانہ کے علماء ربانیین، مصلحین امت نے امت کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ دین صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ رزق حلال کا اہتمام، صفائی معاملات بھی دین وشریعت کا اہم جزء ہے۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے بھی اپنے ملفوظات ومواعظ، تصانیف، تالیفاتمیں اس کی طرف توجہ دلائی ہے اور کسب