چیز، بشرطیکہ وہ اس کے شرعی حصہ سے کم نہ ہو، تو جائز ہے اور اگر کم ہو تو ناجائز ہے کیونکہ اس میں وارث کے لیے وصیت ہے جو کہ ناجائز ہے۔
اور مذکورہ طریقہ کے مطابق حصوں کو متعین کردینا یہ (بھی ایک طرح کی) تقسیم ہے، اور اس کا اختیار مورث کو دیا گیا (کہ وہ جس طرح چاہے حصے متعین کرے)۔
اس لیے باپ کو مثلاً ایسا کرنا چاہئے، کہ سب وارثوں کے لیے ان کے شرعی حقوق کے موافق الگ الگ ایسے قرعے بنا کر کہ لڑکیوں کے ساتھ لڑکوں کی شرکت نہ ہو، وصیت لکھ دیں کہ اس کے موافق تقسیم ہو۔
(امداد الفتاوی ۴؍۳۳۷)
عاق کرنے کا مطلب اور اس کی تشریح
اپنی اولاد یا کسی وارث کو محروم کردینے کا کسی کو حق نہیں
سوال:(۴۵۶) ایک شخص نے اپنے لڑکے کو عاق کردیا اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب: عاق دو معنی میں استعمال ہوتا ہے ایک شرعی معنی، دوسرے عرفی معنی، شرعی معنی تو یہ ہیں کہ اولاد والدین کی نافرمانی کرے، سو اس معنیٰ کے اعتبار سے کسی کے عاق کرنے نہ کرنے کا کوئی دخل نہیں ، جو شخص بھی والدین کی نافرمانی کرے گا اللہ کے نزدیک عاق (یعنی نافرمان) ہوگا، اور اس کا اثر صرف یہ ہوگا کہ خدا کے نزدیک ایسا شخص گنہگار اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا، باقی میراث سے محروم ہونا اس پر مرتب نہیں ہوتا، (یعنی میراث ملے گی)۔
دوسرے معنی عرفی (عاق کے) یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنی اولاد کو ناراضگی کی وجہ سے اپنے مال سے بے حق اور وراثت سے محروم کردے، سو یہ امر شرعاً بے اصل ہے۔