الشاہ احمد رضا خاں بریلوی کی تحقیق اور آپ کا واضح فیصلہ پیش کرتا ہوں ، غور سے ملاحظہ فرمائیے۔
مولانا احمد رضا خاں سے پوچھا گیا کہ مسئلہ :اکثر وبیشترمخلوق خدا کا طریقہ ہے کہ اذان اور فاتحہ خوانی یعنی پنچایت پڑھنے کے وقت (ختمِ اجتماعی) انگوٹھے چومتی ہے اور علماء بھی درست بتلاتے ہیں اور حدیث شریف سے ثابت کر کے دکھلاتے ہیں ، تو یہ قول درست ہے یا نہیں ؟
مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے جواب کا اصلی اور ضروری حصہ انہیں کے الفاظ میں یہ ہے، ملاحظہ فرمائیے:
(جواب) اذان میں وقت استماعِ نامِ پاک ، صاحبِ لولاک ﷺ انگوٹھوں کے ناخن چومنا ، آنکھوں پر رکھنا، کسی حدیث صحیح مرفوع سے ثابت نہیں ، یہ جو کچھ اس میں روایت کیا جاتا ہے، کلام سے خالی نہیں ، پس جو اسکے لیے ثبوت مانے یا اسے مسنون یا موکد جانے یا نفس ِ ترک کو باعث ِ زجر وملامت کہے وہ بے شک غلطی پر ہے، ہاں بعض احادیثِ ضعیفہِ مجروحہ میں تقبیل وارد ہے … اور بعض کتب ِ فقہ میں مثلاً: جامع الرموز ، شرح نقایہ، وفتاویٰ صوفیہ، وکنز العباد وشامی حاشیہ درمختار کہ اکثر ان میں مستندات علمائے طائفہ اسماعیلیہ سے ہیں ، وضع ابہامین کو مستحب بھی لکھ دیا۔ (ابر المقال فی استحسان قبلۃ الاجلال، ص:۱۱، ۱۲)
مذکورہ بالا کتب کنز العباد، جامع الرموز، فتاویٰ صوفیہ، شامی وغیرہ میں جو انگوٹھے چومنے کو مستحب لکھا ہے، اس کوبھی مولانا احمد خاں صاحب نے پسند نہیں کیا،