( فتاویٰ فریدیہ، کتاب الصلاۃ، باب الاذان والاقامۃ، اذان کے وقت انگوٹھے چومناروایاتِ صحیحہ سے ثابت نہیں : ۲؍۱۸۶، ۱۸۷، دارالعلوم صدیقیہ، صوابی،طبع پنجم:۱۴۳۰ھ)
……………………………………
نجم الفتاویٰ
وضو میں اور حضور ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنا
سوال: ……کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وضو میں انگوٹھوں کا چومنا اور محمد ﷺ کے نامِ مبارک پر انگوٹھوں کا چومنا اور اللہ تعالیٰ کے نام پر نہ چومنا جائز ہے یا نہیں ؟ میرے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اگر آپ علیہ السلام کے نامِ نامی پر یہ حکم ہے تو اللہ کے نام پر بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آپ وضاحت فرما دیں ۔
الجواب حامداً ومصلیاً…… وضو میں اور حضور ﷺ کے نامِ مبارک پر انگوٹھے چومنے کی شرعاً کوئی حقیقت نہیں ، بلکہ یہ خود ساختہ عمل ہے، جو شریعت میں قابلِ قبول نہیں ۔ نیز! حضور ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنے سے متعلق جو احادیث پیش کی جاتی ہیں ، ان میں کوئی حدیث بھی صحیح نہیں ہے۔
لما في المشکوٰۃ (ص: ۲۷) : عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ ﷺ: ’’ من أحدث في أمرنا ھٰذا