المیم، رقم الحدیث: ۸۲۹، ص: ۲۱۰، قدیمي کتب خانہ)۔
ترجمہ:’’ جب اس حدیث کا رفع حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تک صحیح ہو گیا، تو حدیثِ نبوی ﷺ: ’’علیکم بسنتي وسنۃ الخلفاء الراشدین‘‘ کی وجہ سے اتنا عمل کے لیے کافی ہے‘‘۔
ملا علی قاری ؒ کی ایک بات کی تحقیق
تو اس بارے میں عرض یہ ہے کہ اس مقام پر ملاعلی قاریؒ سے ذہول ہو گیا ہے، اس لیے کہ اس ’’حدیث‘‘کی تو سند ہی ثابت نہیں ہے، تو پھر اس کے موقوفاً صحیح یا ثابت ہونے کا کیا مطلب؟! یعنی یہ بات نہیں ہے کہ اگر مرفوع حدیث صحیح نہیں تو موقوف صحیح ہو گی، کیوں کہ یہ تو روایت ہی بے سند ہے۔
ملا علی قاریؒ کی اس بات کے بارے میں علامہ عبد الفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
’’ومِن العجیب أن المؤلف لمّا نقل في الموضوعات الکبریٰ قول السخاويؒ:’’وأوردہ الشیخ أحمد الرّداد في کتابہ:’’موجبات الرحمۃ‘‘ بسند فیہ مجاھیل مع انقطاعہ عن الخضر علیہ السلام، وکل ما یروی في ھٰذا، فلا یصح رفعہ البتۃ‘‘، تعقبہ بقولہ :’’وإذا