(ان کتابوں کے مصنفین)فقہاء نے جو کچھ کہا ہے، محدثینِ کرام نے اسے صحیح قرار نہیں دیا‘‘۔
مذکورہ بالا تفصیل سے متعلقہ مسئلہ پوری طرح منقح ہو کر سامنے آچکا ہے، اللہ جل جلالہ کے حضور دعا ہے کہ وہ ہمیں جملہ بدعات ومنکرات سے محفوظ رکھتے ہوئے اتباع نبوی ﷺ کی توفیق مرحمت فرمائے ، اور ہم سب کا خاتمہ بالخیر کرتے ہوئے ہمارا حشر اس جماعتِ قدسیہ کے ساتھ فرمائے ،جس کو دنیا میں ہی ’’رضي اللہ عنہم ورضواعنہ‘‘ کا پروانہ مل گیا تھا، میری مراد صحابہ کرام ث ہیں ۔
بدعت کی ظلمت
اللہ رب العزت نے ابد الآباد کی خوشیاں حاصل کرنے کے لیے انسانوں کو ایک کامل، اکمل وادوم دین وشریعت عطا فرمائی ہے، جس کے بارے میں جناب رسول اللہ ﷺ وفات سے اکیاسی روز قبل، ۹ ذو الحجہ، جمعہ کے روز، عصر کے بعد اللہ جل شانہ نے یہ اعلان کر دیا: {الیوم أکملت لکم دینکم وأتممت علیکم نعمتي ورضیت لکم الإسلام دینا}۔ (المائدۃ: ۳)
اس اعلان ِ خداوندی کامنشاء یہی ہے کہ اب قیامت تک اس دین میں کسی قسم کی ترمیم وتنسیخ اور حذف واضافہ کی نہ ہی ضرورت ہے اور نہ ہی گنجائش، اس سے ہٹ کر صرف اور صرف ضلالت و گم راہی ہے، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیر المؤمنین، خلیفہ راشد، سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا :
’’إنا کنا أذل قوم، فأعزنا اللہ بالإسلام،