تفسیر:’’روح البیان‘‘ کی طرف کی جانی چاہیے،نہ کہ تفسیر جلالین کی طرف۔
چناں چہ ! تفسیر روح ُ البیان کے اس مقام میں بھی دو کتابوں سے استحباب کی عبارت منقول ہے، اُس کے بعد دو کتابوں سے اس عمل کے موضوع ہونے کی عبارت منقول ہے، آخر میں صاحب ِ روح البیان کا اپنا کلام ہے، جو استحباب کی طرف مُشیر ہے۔ان سب عبارات پر تفصیلی کلام آگے آرہا ہے۔
چناں چہ!ذیل میں پہلے متعلقہ کتب کی عبارات اور پھر ان پر تجزیہ پیش کیا جائے گا۔
’’حاشیہ ابن عابدین ‘‘ کی عبارت
’’ یستحب أن یقال عند سماع الأولیٰ من الشھادۃ: ’’صلّی اللہ علیک یا رسول اللہ‘‘، وعند الثانیۃ منھا: ’’قَرَّتْ عینِيْ بِک یا رسولَ اللہ‘‘، ثم یقول: ’’اللّہم متِّعنِيْ بالسمع والبصر‘‘ بعد وضعِ ظُفْرَيِ الإبھامَین علی العینین، فإنّہ علیہ السلام یکون قائداً لہ إلیٰ الجنۃ، کذا في ’’کنز العباد‘‘ اھ قھستاني، ونحوُہ في ’’الفتاویٰ الصوفیۃ‘‘۔
وفي کتاب الفردوس: ’’من قبَّل ظُفرَيْ إبھامَیہ عند سماعِ ’’أَشھد أَنَّ محمداً رسول اللہ‘‘ في الاذان، أنا قائدُہ ومُدخِلُہ في صُفوفِ الجنّۃ‘‘۔ وتمامُہ