علامہ طحطاوی رحمہ اللہ کی عبارت ان کی کتاب ’’حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح‘‘ میں موجود ہے، علامہ طحطاوی رحمہ اللہ نے بھی دو کتابوں سے دو عبارتیں نقل کی ہیں ۔ اور آخر میں ایک جملہ اپنی طرف سے بطورِ نتیجہ یا تجزیہ کے ذکر کیا ہے، اِن دونوں کتابوں سے منقول عبارتوں اور علامہ صاحب رحمہ اللہ کے تجزئیے سے متعلق فقہاء ِ کرام کی تحقیقات اور آراء آگے آ رہی ہیں ۔
’’صاحب جلالین کا فتویٰ‘‘ کے بارے میں حقیقت یہ ہے کہ صاحب ِ جلالین ، یعنی : علامہ جلال الدین محلّی صاحب رحمہ اللہ نے ’’تفسیرِ جلالین ‘‘میں کہیں بھی ایسی کوئی بات ذکر نہیں کی۔
البتہ ’’تفسیر ِجلالین ‘‘میں سورہ ٔ أحزاب کی آیت نمبر : ۵۶ کے حاشیہ میں اس مسئلہ سے متعلق ایک تفصیلی عبارت منقول ہے، تفسیرِ جلالین کے اس حاشیہ سے متعلق (جو ہماری ہندی مطبوعہ تفسیرِ جلالین پر مطبوع ہے)پہلی بات تو جاننے کی یہ ہے کہ یہ حاشیہ تیس کے قریب مختلف تفاسیر سے منتخب کر دہ ہے، لیکن مُحَشِّی کون ہے؟! اِس بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ اس حاشیہ میں بہت سے مقامات پر رطب ویابس اور غیر مستند باتیں بھی موجود ہیں ، البتہ حواشی کے آخر میں محوَّلہ تفسیر کا حوالہ اکثر مذکور ہوتا ہے۔
چناں چہ! مبحوث عنہا حاشیہ ’’تفسیر روح ُالبیان ‘‘سے نقل کر دہ ہے،ملاحظہ ہو:( الشیخ إسماعیل حقي البروسي رحمہ اللہکی تفسیر :روح البیان ، ۷؍ ۲۲۸، ۲۲۹، سورۃ الأحزاب، رقم الآیۃ: ۵۶، مطبعہ عثمانیہ)لہٰذا ! اس تیسری عبارت کے بارے میں اصل نسبت الشیخ إسماعیل حقي البروسي رحمہ اللہ کی