وَاِیْتَائِ الزَّکَاۃِ، یَخَافُوْنَ یَوْماً تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْأَبْصَارُ۔ (النور: ۳۷)
ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ کی یاد سے اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ تجارت غفلت میں ڈالتی ہے اور نہ خرید وفروخت، وہ ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی۔
عبادت کے لئے ان کی بے قراری اور ہمہ وقت فکر مندی کا ذکر قرآنِ کریم اس طرح کرتا ہے:
یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَاماً وَقُعُوْداً وَعَلیٰ جُنُوْبِہِمْ۔ (اٰل عمران: ۱۹۱)
ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کو کھڑے، بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر برابر یاد کرتے ہیں ۔
فرمایا گیا:
تَتَجَافیٰ جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفاً وَطَمَعاً۔ (الم السجدۃ: ۱۶)
ترجمہ: ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں ، وہ خوف اور امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں ۔
یہ قرآنِ کریم کی شہادتیں ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وتربیت نے اہل عرب کی روحانی اور قلبی دنیا میں عجیب وغریب انقلاب پیدا کردیا تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے شوق نماز اور غایت اہتمام کے بے شمار نمونے صفحات میں محفوظ ہیں ، چند نمونوں کا ذکر کیا جاتا ہے:
(۱) حضرت مسور سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نیزہ لگا تو ان پر بے ہوشی طاری ہونی شروع ہوگئی۔ چناں چہ کہنے والے نے کہا: ’’الصلاۃ یا أمیر المؤمنین‘‘ لوگ تو نماز پڑھ چکے ہیں ، یہ سن کر آپ ہوش میں آئے، اور فرمایا نماز! ہائے اللہ، اب تو پڑھنی