حَبَسُوْنَا عَنْ صَلاَۃِ الْوُسْطیٰ صَلَاۃِ الْعَصْرِ مَلأَ اللّٰہُ بُیُوْتَہُمْ وَقُبُوْرَہُمْ نَاراً۔ (متفق علیہ)
ترجمہ: ان بدبختوں نے ہم کو عصر کی نماز ادا نہ کرنے دی، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھردے۔
اس واقعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز سے عشق وربط کا کچھ اندازہ ہوسکتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان ہے:
کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحَدِّثُنَا وَنُحَدِّثُہٗ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَکَأَنَّہٗ لَمْ یَعْرِفْنَا وَلَمْ نَعْرِفْہٗ۔
ترجمہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے بات کرتے رہتے تھے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتے رہتے تھے، مگر جب نماز کا وقت ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہوجاتے تھے جیسے آپ ہم کو اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پہچانتے۔
یعنی نماز کے لئے بے چینی ہوتی تھی، پروا نہ وار نماز کی طرف دوڑ پڑتے تھے اور نماز کے سوا کسی اور چیز پر ادنیٰ توجہ بھی نہ ہوتی تھی۔ ایک بار منقش چادر میں نماز ادا کی، اور نماز کے بعد فوراً اسے اتاردیا اور فرمایاکہ خطرہ ہوا کہ یہ نماز سے غافل نہ کردے اور نماز خراب نہ کردے۔
پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وتربیت کا یہ اعجازی اثر تھا کہ عرب کا وہ معاشرہ جو خدا کی عبادت سے بے گانہ، تسبیح وتحمید کی لذت سے ناآشنا، اور خدا پرستی کے نور سے محروم تھا، اس کا حال یہ ہوگیا کہ اس کی روح عبادت خداوندی کے سوا کسی اور چیز سے تسلی اور سکون نہ پاتی تھی، عبادت کی لذت کے سوا دنیا کی کوئی اور لذت اسے راس نہ آتی تھی۔ اس کی حالت قرآنی زبان میں یہ ہوگئی:
رِجَالٌ لَا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَاِقَامِ الصَّلَاۃِ