ہی ہے۔ اور فرمایا:
لَا حَظَّ فِیْ الْاِسْلَامِ لِمَنْ لاَ صَلاَۃَ لَہٗ۔ (حیاۃ الصحابہ ۳؍۱۱۰)
ترجمہ: اس آدمی کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں جس نے نماز چھوڑدی، پھر اسی حالت میں نماز پڑھی۔
(۲) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے، تو اس طرح بے حس وحرکت ہوجاتے تھے جیسے لکڑی زمین میں گاڑ دی گئی ہو۔
(۳) ایک بار میدانِ جنگ میں دو صحابیوں کو پہرہ دینے کے لئے متعین کردیا گیا، ایک صحابی سوگئے اور دوسرے صحابی نماز کی نیت باندھ کر نماز میں مشغول ہوگئے، دشمن نے نماز ادا کرنے والے صحابی کو کھڑا دیکھ کر تیر مارا، مگر صحابی کا انہماک نماز میں اتنا زیادہ تھا کہ انہوں نے کوئی حرکت نہ کی، تیر مارنے والے نے سمجھا کہ شاید نشانہ خطا کرگیا ہے، چناں چہ اس نے دوسرا پھر تیسرا تیر مارا، یہاں تک کہ ہر تیر صحابی کے جسم میں پیوست ہوتا رہا، مگر ان کا استغراقِ نماز اسی طرح قائم رہا، نماز پوری کرکے دوسرے ساتھی کو جگایا اور تفصیل بتائی، ساتھی نے کہا کہ تم نے مجھے اسی وقت کیوں نہیں جگایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ایک پیاری سورت (سورۂ کہف) شروع کی تھی، میرا دل آمادہ نہ ہوا کہ اس کو ختم کئے بغیر نماز توڑدوں ۔ (ابوداؤد)
(۴) حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو جب کفار نے قید کرلیا اور عرصہ تک قید رکھنے کے بعد جب قتل کرنے کے لئے مقتل میں ان کو لائے، تو قتل سے پہلے ان کی آخری تمنا دریافت کی گئی، انہوں نے کہا بس ایک تمنا ہے، وہ یہ کہ دو رکعت نماز ادا کروں ، کافروں نے مہلت دی، چناں چہ انہوں نے نہایت اطمینان اور مکمل خشوع وخضوع کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کی، پھر فرمایا کہ اگر یہ گمان نہ ہوتا کہ تم یہ سمجھ بیٹھوگے کہ یہ موت کے ڈر سے دیر کررہا ہے تو دو رکعت نماز اور ادا کرتا، اس کے بعد انہیں تختۂ دار پر چڑھادیا گیا۔