اَلصَّلاَۃُ مِکْیَالٌ، فَمَنْ اَوْفیٰ اَوْفیٰ بِہٖ، وَمَنْ طَفَّفَ فَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا لِلْمُطَفِّفِیْنَ۔ (کنز العمال ۴؍۲۳۰)
ترجمہ: نماز ایک پیمانہ ہے، جس نے اسے پورا ناپا اس کو پورا ناپ کر دیا جائے گا، اور جس نے ناپنے میں کمی کی تو کم ناپنے والوں کی سزا تم کو معلوم ہے۔
معلوم ہوا کہ نماز ہر مسلمان کے عمل کا پیمانہ ومعیار ہے، وقت اور پابندی سے اگر نماز ادا ہوتی ہے تو اس سے انسان کی زندگی کی ہر چیز ناپی اور جانی جاسکتی ہے۔
علامہ سید سلیمان ندویؒ رقم طراز ہیں :
’’اوقاتِ نماز کے تقرر میں وہ اصول وحدت بھی مدنظر ہے جو اسلام کا اصلی رمز اور شعار ہے، مسلمان مختلف شہروں ، ملکوں اقلیموں میں ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں آباد ہیں ، مگر یہ کثرت ایک خاص وقت اور ایک خاص حالت میں وحدت کا مرقع بن جاتی ہے، کرۂ ہوا میں لگی ہوئی دوربین سے اگر زمین کی طرف دیکھو تو ایک خاص وقت میں لاکھوں کروڑوں انسانوں کو ایک ہی وضع میں ، ایک ہی شکل میں خالق عالم کے سامنے سرنگوں پاؤگے، اور جہاں تک مطلع ومغرب میں نمایاں فرق نہ ہوگا، یہی منظر آنکھوں کے سامنے رہے گا، مختلف ملکوں میں طلوع وغروب کا اختلاف اگر اس وحدت کے رنگ کو کامل نہیں ہونے دیتا، تو کم از کم اتنی وحدت تو یقینی ہے کہ جس وقت جس حالت میں ایک جگہ آفتاب ہوتا ہے، جب دوسری جگہ بھی اسی حالت میں ہوتا ہے، تو نماز کا فرض اس وقت وہاں ادا ہوتا ہے، یہ وحدت ظاہر ہے کہ اوقات کے تقرر کے بغیر ممکن نہ تھی، اگر ایسا نہ ہوتا تو صفحۂ ارضی تو کیا، ایک محلہ ایک گھر کے مسلمان بھی ایک جگہ اور ایک حالت میں نظر نہیں آسکتے تھے‘‘۔ (سیرت النبی ۵؍۶۱-۶۲)
(۱۱) سحر خیزی
رات کو جلدی سونا اور صبح کو جلدی اٹھنا حفظانِ صحت کے اہم اصولوں میں سے ہے، اہل ایمان جو نمازوں کے پابند ہوتے ہیں وہ اس اصول کے پابند ہوتے ہیں ، چناں چہ وہ عشاء کے بعد فوراً سوجاتے ہیں اور صبح صادق ہوتے ہی بیدار ہوجاتے ہیں ۔ احادیث میں