ان میں مفید پہلو بہت کم ہیں اور مضر پہلو بہت زیادہ ہیں ، اور ان میں گناہوں اور بدکاریوں کے لاتعداد نمونے ملتے ہیں ، اس کے بالمقابل اسلام نے اپنے قومی اجتماع کے لئے روزانہ پانچ باجماعت نمازوں ، ہفتہ میں جمعہ اور سال میں عیدین کا نظام مقرر کیا، جس میں اجتماعیت ووحدت کا مقصد بھی مکمل ہوتا ہے اور مشرکانہ رسوم اور اخلاقی برائیوں سے بھی مکمل اجتناب رہتا ہے، اس لحاظ سے اسلام کا یہ اجتماعی نظام سراپا خیر وبرکت ہے، اور اس کا ہر پہلو مفید ہی ہے، کسی بھی گوشے سے اس میں کوئی نقص اور عیب نہیں نکالا جاسکتا۔
(۱۶) تنوع اور رنگا رنگی
فطرتِ انسانی تنوع پسند، متلون، تغیر پذیر، حرکت پسند اور جمود ویکسانیت سے بیزار بنائی گئی ہے، اس فطرت کی مکمل رعایت نماز میں موجود ہے، غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ نماز وہ فرض ہے جو ہر لمحہ انسان پر لازم نہیں اور نہ ہی سال میں ایک بار لازم ہے؛ بلکہ چوبیس گھنٹوں میں اسے پانچ بار انجام دینا پڑتا ہے۔ انسان صبح کو کام میں لگتا ہے پھر ظہر پر آکر وقفہ کرتا ہے، پھر ظہر کے بعد کی مشغولیت عصر پر ختم ہوتی ہے، عصر کے بعد کاموں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو اذانِ مغرب پر موقوف ہوتا ہے، پھر گھریلو مصروفیت شروع ہوتی ہے، جس کا اختتام اذانِ عشاء پر ہوتا ہے، پھر انسان محو خواب ہوتا ہے، پھر صبح کو اٹھتا ہے، تو آغاز نماز فجر سے ہوتا ہے، کاموں اور مشغولیت کے درمیان میں نماز اور عبادت وتسبیح کے یہ وقفے انسان کو ہلکا کردیتے ہیں ، اور اس میں عمل وحرکت کی مزید قوت پیدا کردیتے ہیں ۔
(۱۷) تربیت
انسان عملی زندگی میں بامراد اسی وقت ہوتا ہے جب اس میں مستقل مزاجی، پابندی اور مداومت کی روح ہو، جو کام شروع کرے اس پر تازندگی برقرار رہے، یہ روح پیدا کرنے کی سب سے اچھی تربیت گاہ نماز ہے، نماز ایسا فریضہ ہے جسے دن ورات میں پانچ بار استقلال ومداومت کے ساتھ انجام دینا پڑتا ہے، اس کے ذریعہ سے پوری عملی زندگی میں یہ اوصاف متعدی ہوتے