ہے اور اس کی روح پر نماز کی کیفیت غالب آجاتی ہے تو وہ بندہ نورِ الٰہی میں غرق ہوکر گناہوں کی آلائشوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے۔
قرآنِ کریم کہتا ہے:
وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفاً مِنَ اللَّیْلِ، اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ۔ (ہود: ۱۱۴)
ترجمہ: دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز کا اہتمام کیجئے، اور یاد رکھئے کہ نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں ۔
واضح ہوا کہ نماز اور دیگر نیکیوں میں اللہ نے بد اعمالیوں اور گناہوں کو مٹانے اور دور کرنے کی اسی طرح کی تاثیر رکھی ہے جیسے پانی میں بدن کے میل کچیل کو دور کرنے کی تاثیر ہے۔
(۴) نماز غفلتوں اور وساوس کو دور کرتی ہے
نماز کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ اگر حضورِ قلب اور خلوصِ دل اور صدقِ نیت کے ساتھ ادا کی جائے تو اس سے غفلتیں ، برے خیالات اور وساوس کا مکمل طور سے ازالہ ہوجاتا ہے، اس کے ذریعہ اللہ کی صحیح معرفت حاصل ہوتی ہے، دل میں خداوند قدوس کی عظمت پیدا ہوتی ہے، اس مقصد کے حصول میں نماز سے زیادہ مفید کوئی عبادت نہیں ۔
(۵) نماز اہل اسلام کا شعار ہے
نماز مسلمانوں کا امتیازی شعار ہے، کافر ومسلم کے درمیان امتیاز اس عبادت سے ہوسکتا ہے، اس کو احادیث میں واضح کیا گیا ہے کہ نماز کفر وشرک اور فسق وضلال سے محفوظ رکھتی ہے، اور مسلمانوں کوامتیازی مقام عطا کرتی ہے۔
(۶) نماز نفس کے ضبط کا نمونہ ہے
طبیعت کو عقل کا پابند اور تابع کرنے کی مشق کا سب سے عمدہ ذریعہ نماز کا اسلامی نظام