صاحب روح المعانی علامہ آلوسیؒ کے بقول خشوع قبول نماز کے لئے شرط ہے۔
علامہ عثمانیؒ فرماتے ہیں کہ خشوع نماز کے حسن قبول کے لئے شرط ہے۔
امام ابن تیمیہؒ کی رائے یہ ہے کہ خشوع واجب ہے، اور اس کی دلیل میں فرماتے ہیں کہ قرآن کے بموجب نماز صرف خاشعین پر بھاری نہیں ، غیر خاشعین پر بھاری ہے، تو اس میں خشوع نہ کرنے والوں کی مذمت ہے اور مذمت ترکِ واجب یا ارتکاب حرام پر ہوتی ہے، تو یہ مذمت خشوع کے وجوب کی دلیل ہے۔ اسی طرح خاشعین کو فلاح یاب اور تنہا جنت الفردوس کا وارث قرار دیا گیا ہے، اس سے بھی وجوب مترشح ہوتا ہے، اب جو سجدہ جلدی جلدی کرتا ہے اور کوے کی طرح چونچ مارتا ہے، وہ سجدہ میں خشوع نہیں کرتا، جو رکوع میں ٹھیک سے سر اٹھائے اور کھڑے ہوئے بغیر سجدہ میں چلاجاتا ہے وہ رکوع میں خشوع نہیں کرتا، خشوع نہ کرنے والے کی مذمت احادیث میں بھی آئی ہے، ان سب سے خشوع کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔ (فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ۲۲؍۵۵۳-۵۵۸)
حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ:
خشوع صحتِ نماز کے لئے موقوف علیہ تو نہیں ، اور اس درجہ میں وہ فرض نہیں ، مگر قبولِ نماز کا موقوف علیہ اور اس مرتبہ میں فرض ہے‘‘۔ (معارف القرآن ۶؍۲۹۶)
خشوع کی دو قسمیں
خشوع کی دو قسمیں ہیں : ایک تو ایمانی خشوع ہے۔ دوسرا منافقانہ خشوع ہے۔ ایمانی خشوع وہ ہے جو دل میں ہو اور اس کا ظہور اعضاء پر بھی ہو، اور منافقانہ خشوع یہ ہے کہ اعضاء سے خشوع ظاہر کرنے کی کوشش ہو، مگر دل خشوع سے خالی اور محروم ہو۔
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اصحاب سے فرمایا کرتے تھے:
اِیَّاکُمْ وَخُشُوْعَ النِّفَاقِ۔