(۵) حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانۂ خلافت میں ایک انصاری صحابی اپنے باغ میں مصروفِ نماز تھے، باغ کے سرسبز وشاداب پھلوں کی طرف ان کی نگاہ اٹھی، تو نماز کی طرف دھیان نہ رہا، تھوڑی دیر بعد جب دھیان آیا تو بہت پشیمان ہوئے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے آکر عرض کیا کہ اس باغ نے مجھ کو مبتلائے فتنہ کردیا، میں یہ باغ اللہ کی راہ میں دیتا ہوں ، حضرت عثمانؓ نے وہ باغ بیت المال کی طرف سے پچاس ہزار میں فروخت کیا۔ (موطا امام مالک)
(۶) حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں نماز ادا کررہے تھے، نماز کے دوران ایک خوب صورت پرندہ آکر سامنے چہچہانے لگا، ابوطلحہؓ دیر تک اسے دیکھتے رہے اور نماز سے خیال ہٹ گیا، جب احساس ہوا تو فوراً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور باغ راہِ خدا میں نذر کردیا۔ (موطا امام مالکؒ)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نے خشوع وخضوع سے آراستہ مکمل نماز کے نمونے پیش کردئے اور اس راہ میں حائل ہونے والی ہر عزیز سے عزیز چیز بھی قربان کردی۔
صحابہ کے علاوہ تابعین، اکابر امت اور اسلاف کی زندگی میں بھی یہی نمونے ملتے ہیں ۔ حضرت سعید بن المسیبؒ کے بارے میں آتا ہے کہ چالیس سال تک ان کی تکبیر تحریمہ فوت نہ ہوئی۔ امام ابوحنیفہؒ پوری رات نماز میں گذارتے تھے۔ امام شافعیؒ نے رات کے ایک حصہ کو علم کے لئے دوسرے حصہ کو عبادت کے لئے اور تیسرے حصہ کو آرام کے لئے خاص کر رکھا تھا۔
ایمانی نماز کی حقیقت اور روح
نماز کی حقیقت کا ذکر فرماتے ہوئے حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے:
وَاَصْلُ الصَّلاَۃِ ثَلاَ ثَۃُ اَشْیَائَ: اَنْ یَخْضَعَ الْقَلْبُ عِنْدَ