(۳) نماز کی ادائیگی آسان ہونا: سورۃ البقرہ میں وارد ہوا ہے کہ خشوع اختیار کرنے والوں کے لئے نماز کی ادائیگی گراں نہیں رہتی؛ بلکہ آسان ہوجاتی ہے۔
(۴) رحمت الٰہی کا فیضان: حدیث میں آیا ہے:
اِذَا قَامَ اَحَدُکُمْ اِلَی الصَّلاَۃِ فَلاَ یَمْسَحِ الْحَصیٰ فَاِنَّ الرَّحْمَۃَ تُوَاجِہُہٗ۔ (ترمذی شریف)
جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہو، تو کنکریوں پر ہاتھ نہ پھرے؛ کیوں کہ اس وقت اللہ کی خاص رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، کنکری پر بلاضرورت ہاتھ پھیرنا خشوع کے خلاف ہے، اور ہاتھ نہ پھیرنا خشوع ہے جس کے نتیجے میں رحمتِ الٰہی متوجہ ہوتی ہے۔
(۵) شیطان سے حفاظت: حضرت سہل کا بیان ہے کہ:
مَنْ خَشَعَ قَلْبُہٗ لَمْ یَقْرُبْ مِنْہُ شَیْطَانُ۔ (مدارج السالکین ۱؍۵۵۹)
ترجمہ: جس کے دل میں خشوع ہوتا ہے، اس سے شیطان قریب نہیں ہوتا۔ (بلکہ دور ہی رہتا ہے)
خشوع کی اہمیت احادیث کی روشنی میں
(۱) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا مِنْ اِمْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُہٗ صَلَاۃٌ مَکْتُوْبَۃٌ فَیُحْسِنُ وُضُوْئَ ہَا وَخُشُوْعَہَا وَرُکُوْعَہَا، اِلَّا کَانَتْ کَفَّارَۃً لِمَا قَبْلَہَا مِنَ الذُّنُوْبِ مَا لَمْ یُوْتِ کَبِیْرَۃً، وَذٰلِکَ الدَّہْرَ کُلَّہٗ۔
(مسلم: باب فضل الوضوء)
ترجمہ: جو مسلمان بھی فرض نماز کا وقت آنے پر اچھی طرح وضو کرتا ہے اور خوب خشوع کے ساتھ اچھی طرح رکوع کرکے نماز پڑھتا ہے، تو اس کی نماز اس کے لئے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے، جب تک وہ کبیرہ گناہ کاارتکاب نہ کرے، اور نماز کی یہ فضیلت اس کو ہمیشہ حاصل ہوتی رہے گی۔
(۲) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: