ہے، مال دار ونادار، امیر وغریب، کالے گورے، عربی عجمی اور معذور وتندرست سب ایک صف میں کھڑے ہوکر بارگاہِ رب العزت میں سربسجود ہوتے ہیں ۔ اور بقول شاعر:
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
علامہ سید سلیمان ندویؒ کے الفاظ میں :
’’جماعت کی امامت کے لئے حسب ونسب، نسل وخاندان، رنگ وروپ، قومیت اور جنسیت، عہدہ اور منصب کی ضرورت نہیں ہوتی؛ بلکہ علم ودانش، فضل وکمال اور تقویٰ وطہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں شاہ وگدا اور شریف ورذیل کی تفریق نہیں ، سب ہی ایک زمین پر، ایک امام کے پیچھے، ایک صف میں دوش بدوش کھڑے ہوتے ہیں اور کوئی کسی کو اپنی جگہ سے نہیں ہٹاسکتا، اور اس برادرانہ مساوات اور انسانی برادری کی مشق دن میں پانچ دفعہ ہوتی ہے، کیا مسلمانوں کی معاشرتی جمہوریت کی یہ درس گاہ کہیں اور بھی قائم ہے‘‘۔ (سیرۃ النبی ۵؍۱۰۳)
(۲۰) اطاعت وفرماں برداری
باجماعت نماز کے اسلامی نظام میں پوری قوم اپنے امام کی اقتداء، پیروی اور اطاعت کرتی ہے، نماز کا یہی پیغامِ اطاعت یہ مطالبہ کرتا ہے کہ قوم کی پوری زندگی کا بھی ایک امام وراہ نما ہو، جس کی اطاعت کی جائے، بغیر قیادت اور اطاعت کے جماعت کی سلامتی ناممکن ہے، ایک طرف قائد وامام میں قیادت وامامت کی صلاحیت ضروری ہے اور دوسری طرف قوم میں اطاعت واتباع کی قابلیت لازمی ہے۔ (یہ تیرہ فوائد سیرت النبی سے ماخوذ ہیں ، الفاظ حتی المقدور خاکسار مؤلف کے ہیں )
mlm