پڑھ تو لے، مگر ان میں تدبر نہ کرے، وہ آیات یہ ہیں :
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ۔ (اٰل عمران تا ختم رکوع)
معلوم ہوا کہ تدبر وتفکر خشوع پیدا کرتا ہے۔
(۵) ہر آیت پر سانس توڑنا
ہر آیت پر سانس توڑنے کا عمل فہم وتدبر اور خشوع وخضوع میں بے حد مؤثر ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہی تھا۔ حضرت ام سلمہؓ کی روایت ہے کہ: ’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھتے، پھر سانس لیتے، پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ پڑھتے پھر سانس لیتے، اس طرح ہر آیت الگ الگ سانس لے کر پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد) معلوم ہوا کہ ہر آیت پر سانس توڑنا سنت ہے، اس سے خشوع پیدا ہوتا ہے۔
(۶) اطمینان سے تلاوتِ قرآن
قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:
وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً۔ (المزمل: ۴)
ترجمہ: اور قرآن کو خوب ٹھہرٹھہرکر پڑھئے۔
اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تلاوتِ قرآن میں جلدی نہ کی جائے، ہرہر لفظ اطمینان سے ادا کیا جائے، اس طرح تلاوت سے فہم وتدبر میں مدد ملتی ہے، دل پر گہرا اثر ہوتا ہے، ذوق وشوق میں اضافہ ہوتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز میں قرآنِ پڑھتے تھے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا ایک ایک حرف بالکل واضح ہوتا تھا۔ (ترمذی شریف)
اطمینان سے تلاوت کا سب سے اہم فائدہ خشوع کی کیفیت پیدا ہونا ہے، جلد بازی