مذکورہ تفصیل سے یہ حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے کہ اللہ کو انسانوں کی جو ادا سب سے زیادہ پیاری ہے وہ ’’عبدیت‘‘ کی ادا ہے، انسان یہ حقیقت ہمہ وقت ذہن نشین رکھے کہ وہ مالک نہیں ، مالک ہر چیز کا صرف اللہ ہے اور انسان بس بندہ ہے، اور اس کا کام بندگی ہے، یہی اس کے روز وشب کا محور اور اُس کے دنوں کی تپش اور شبوں کا گداز ہونا چاہئے اور اسی میں اسے لذت وفرحت ملنی چاہئے۔
بندگی کا سب سے اعلیٰ مظہر نماز ہے
انسان کا جو رابطۂ عبدیت وبندگی اللہ سے ہے اس کا سب سے عمدہ اور اعلیٰ مظاہرہ نماز میں ہوتا ہے، نماز عبدیت کا بہترین مظہر ہے، یوں تو اللہ نے بندوں پر متعدد متنوع عبادات لازم کی ہیں اور ہر عبادت کا اپنا اپنا امتیاز ہے؛ لیکن ان عبادات میں سب سے زیادہ اہمیت اور برتری نماز کو حاصل ہے، سب سے پہلا فرض نماز ہے اور قیامت میں سب سے پہلے اسی کے متعلق بازپرس ہوگی۔ حدیث میں آتا ہے کہ اگر کسی بندے کو دیکھو کہ وہ نماز کا پابند ہے تو اس کے ایمان کی گواہی دو، اور جس کا دل مسجد سے اٹکا ہوا ہو وہ اللہ کا محبوب ہے، اور وہ قیامت کے روز عرشِ الٰہی کے اس سائے میں ہوگا جس کے سوا اس روز کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی اہم معاملہ درپیش ہوتا تھا اور کسی بات کی فکر طاری ہوجاتی تھی تو فوراً نماز پڑھنے لگتے تھے۔
کَانَ اِذَا حَزَبَہٗ اَمْرٌ فَزِعَ اِلیَ الصَّلاَۃِ۔ (سنن ابی داؤد)
ترجمہ: جب کوئی معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لپک کر نماز ادا کرنے لگتے تھے۔
نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سہارا اور آسرا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کا سرور اور آنکھ کی ٹھنڈک اور نور تھی۔