مَا لَمْ یَلْتَفِتْ، فَاِذَا الْتَفَتَ اِنْصَرَفَ عَنْہُ۔ (ابوداؤد شریف)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ بندہ پر مسلسل اپنی عنایت رکھتا ہے جب تک بندہ نماز میں التفات نہیں کرتا ہے، جب بندہ التفات کرلیتا ہے، تو اللہ اپنی عنایت کھینچ لیتا ہے۔
حدیث میں التفات کو شیطانی اثر قرار دیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے:
اِخْتِلاَسٌ یَخْتَلِسُہُ الشَّیْطَانُ مِنْ صَلَاۃِ الْعَبْدِ۔ (بخاری شریف: باب الاتفات فی الصلاۃ)
ترجمہ: یہ ایک اچک لینا ہے کہ شیطان بندے کی نماز میں سے اچک لیتا ہے۔
نمازی کی توجہ الی اللہ شیطان کے لئے ناقابل برداشت ہے، اس لئے وہ نمازی کی توجہ کو اچک لیتا ہے اور خشوع وخضوع کو غارت کردیتا ہے، اس لئے اس سے بچنا چاہئے، یہ نماز میں نقصان کا باعث ہے۔ ترمذی شریف کی ایک روایت میں التفات کو نماز کی یا نماز کے خشوع کی ہلاکت کا سبب بتایا گیا ہے۔
بخاری شریف میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے صنیع سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اختیاری وغیر اختیاری دونوں طرح کا التفات نماز میں خلل انداز ہوتا ہے اور نقصان دہ ہوتا ہے۔
(۲۹) آسمان کی طرف نظر نہ اٹھانا
حدیث میں آیا ہے کہ:
مَا بَالُ اَقْوَامٍ یَرْفَعُوْنَ اَبْصَارَہُمْ اِلیَ السَّمَائِ فِیْ صَلاَ تِہِمْ، لَیَنْتَہُنَّ عَنْ ذٰلِکَ اَوْ لَتُخْطَفَنَّ اَبْصَارُہُمْ۔ (بخاری شریف: باب رفع البصر الی السماء فی الصلاۃ)