نماز میں خشوع وخضوع
قرآنِ کریم میں اہل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا:
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلاَ تِہِمْ خَاشِعُوْنَ۔ وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ ا للَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ۔ (المؤمنون: ۱-۳)
ترجمہ: وہ اہل ایمان بامراد ہیں جو اپنی نماز میں خشوع وخضوع اختیار کرتے ہیں اور لغویات سے اعراض کرتے ہیں ۔
واضح فرمادیا گیا ہے کہ وہی نماز فلاح کا سبب ہوتی ہے جو خشوع وخضوع کے زیور سے آراستہ ہو۔
خشوع کی حقیقت
خشوع کے معنی سکون، جھک جانے، دب جانے، اظہار عجز وانکسار، پستی، فرتنی، تذلل اور نیاز مندی وغیرہ کے ہیں ۔ اس کیفیت کا تعلق دل سے بھی ہے اور اعضاء وجوارح سے بھی، دل کسی کی ہیبت اور عظمت وجلال سے مرعوب ہو اور جب وہ سامنے آئے تو سرجھک جائے، اعضاء ڈھیلے ہوجائیں ، نگاہیں پست ہوجائیں ، آواز دب جائے، نماز میں خشوع سے مراد دل اور جسم کی یہی کیفیت ہے کہ غیر کے خیالات دل میں بالقصد نہ لائے جائیں ، اور اعضاء وجوارح عبث حرکتیں نہ کریں ؛ بلکہ دل اور جسم اللہ کے سامنے جھک جائیں ، یہی نماز کی اصل روح اور خشوع کی حقیقت ہے۔
قرآنِ کریم کی ایک آیت میں وارد ہوا ہے:
وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَۃِ، وَاِنَّہَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلاَّ عَلیَ