چھپانا ضروری قرار دیا گیا، عرب کے برہنہ افراد کو ستر پوشی پر ابھارا گیا اور نماز کے ذریعہ روز وشب میں پانچ بار ان کو پردہ پوشی کے فرض سے آشنا کرکے عملی طور پر پوری زندگی میں باحیا اور ستر پوش بنادیا گیا۔ عورتوں کو بے حیائی کے لباس پہننے سے روکا گیا اور باریک کپڑوں میں نماز نادرست قرار دی گئی۔
(۹) طہارت اور پاکیزگی
نماز کا ایک اہم تمدنی فائدہ طہارت اور پاکیزگی ہے، پہلی وحی سورۃ العلق کے بعد دوسری وحی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا:
وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ۔ (المدثر: ۴)
ترجمہ: اپنے کپڑوں کو پاک رکھئے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام میں طہارت کے اصول اور طریقے بتائے گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں اس کے حدود کی تعیین فرمائی ، اور یہ واضح فرمادیا کہ نماز اسی وقت درست ہوگی جب انسان کا جسم، لباس اور نماز ادا کرنے کا مقام نجاست اور گندگیوں سے صاف اور پاک ہو، جاہلیت میں اہل عرب پر وحشیت غالب تھی، طہارت کا کوئی تصور ان کے ہاں نہ تھا، احادیث میں ایک دیہاتی کا واقعہ آتا ہے، جس نے مسجد نبوی میں آکر برسر عام پیشاب کرنا شروع کردیا، صحابہ اسے مارنے دوڑے، مگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا اور دیہاتی کو بلاکر پیار سے سمجھایا کہ:
اِنَّ ہٰذِہِ الْمَسَاجِدَ لاَ تَصْلُحُ لِشَيْئٍ مِنْ ہٰذَا الْبَوْلِ وَالْقَذَرِ، إِنَّمَا ہِیَ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَالصَّلاَۃِ وَقِرَائَ ۃِ الْقُرْاٰنِ۔ (متفق علیہ)
ترجمہ: یہ مسجدیں پیشاب اور نجاست پھیلانے کی جگہیں نہیں ہیں ، یہ تو اللہ کے ذکر اور نماز اور تلاوتِ قرآن کی جگہیں ہیں ، پھر صحابہ کو اس جگہ