ترجمہ: یہ پردہ ہٹالو؛ کیوں کہ اس کی تصویریں (نقش ونگار) نماز میں میرے سامنے ظاہر ہوتی ہیں (اور سبب غفلت بن جاتی ہیں )
روایات میں آتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ میں داخل ہوئے، تو وہاں مینڈھے کی دو سینگیں دیکھیں ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرچکے تو حضرت عثمان حجبیؓ (کلید بردار کعبہ) سے فرمایا کہ ان سینگوں کے چھپانے اور ڈھانکنے کا حکم دینا میں بھول گیا، یہ مناسب نہیں ہے کہ خانۂ کعبہ میں ایسی چیز رہے جو نمازی کے دل کو مشغول کردے۔
عام گذرگاہوں ، شور وہنگامے کے مقامات، گفتگو کرنے والوں کے آس پاس نماز ادا کرنے سے اسی لئے منع کیا گیا ہے؛ کیوں کہ یہ چیزیں حضور قلب اور خشوع پر اثر ڈالتی ہیں ۔
سخت گرمی کے موسم میں ظہر کو دیر سے پڑھنے کا حکم اسی لئے ہے کہ حضور قلب باقی رہے۔ علامہ ابن القیمؒ کے بقول: ’’سخت گرمی میں نماز پڑھی جائے تو خشوع نہیں رہتا، آدمی بادلِ ناخواستہ عبادت کرتا ہے، شارع کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ ظہر کو مؤخر کیا جائے؛ تاکہ بندہ حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھے اور نماز کا مقصود خشوع وانہماک حاصل ہوسکے‘‘۔ (الوابل الصیب ۲۲)
(۲۱) منقش کپڑے میں نماز سے اجتناب
نمازی کے کپڑے سادہ ہونے چاہئیں ، منقش کپڑے نماز میں دل کو غافل اور مشغول کردیتے ہیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منقش چادر اوڑھ کر نماز پڑھنے لگے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد فوراً وہ چادر اتاردی اور فرمایا کہ مجھے اس کے نقش ونگار نے نماز سے غافل کردیا۔ وہ چادر حضرت ابوجہمؓ نے آپ کو ہدیہ کے طور پر دی تھی، آپ نے فرمایا کہ یہ چادر ابوجہمؓ کو دے آؤ (چوں کہ وہ نابینا تھے؛ اس لئے اس کے نقوش ان کی نماز میں خشوع پر مؤثر نہ ہوسکتے تھے) اور ابوجہمؓ کی انبجانیہ (انبجان کی بنی ہوئی سادہ چادر) لے آؤ (تاکہ ان کی دل شکنی نہ ہو) (صحیح مسلم)