مطالبہ کرتی ہے کہ بے حیائی اور شرارت وسرکشی سے باز آ، اب کوئی باز آئے یا نہ آئے، مگر نماز بلاشبہ اسے روکتی اور منع کرتی ہے‘‘۔ (فوائد عثمانیہ ۵۳۵)
آگے یہ فرمایا گیا کہ اللہ کا ذکر سب سے بڑی دولت ہے، قرآن میں ایک مقام پر آیا ہے کہ:
اَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ۔ (الرعد)
ترجمہ: سنو! اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔
یہ واقعہ ہے کہ دل ہی تمام عزائم اور حوصلوں کا سرچشمہ ہے، دل توانا اور مضبوط ہے تو انسان سے زیادہ قوی کوئی شئ نہیں ، اور دل ناتواں اور کمزور ہے تو انسان سے زیادہ ناتواں کوئی نہیں ۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ دلوں کو قوت بخشنے والی چیز اللہ کا ذکر اور یاد ہے، اور ذکرالٰہی کی سب سے عمدہ، جامع، دل پذیر اور مؤثر شکل نماز ہے۔
قرآنِ کریم کی اس آیت میں ایمانی اور رسمی دونوں نمازوں کی پہچان کا معیار اور فرق بتادیا گیا ہے کہ جو نماز انسان کو پوری عملی زندگی میں برائیوں سے روک دے وہ ایمانی نماز ہے، اور جس کی نماز اسے عملی زندگی میں برائیوں سے نہ روکے، اور نماز کی ادائیگی کے باوجود اس کی عملی زندگی فحشاء ومنکر سے آلودہ ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی نماز صحیح تذکر واخلاص اور روح ونور سے خالی ہے، اور اس کی حیثیت رسمی وسطحی مظاہرے اور دکھاوے سے زیادہ کچھ نہیں ، اور ایسی ہی نماز کے بارے میں :
لَمْ یَزْدَدْ بِہَا مِنَ اللّٰہِ اِلاَّ بُعْداً۔
ترجمہ: جس کے ذریعہ اللہ سے قرب کے بجائے بعد بڑھتا ہے ۔
کی وعید آئی ہے۔
نماز کی یہ تاثیر کہ وہ تمام ظاہری وباطنی گناہوں سے روکتی ہے، احادیث میں بھی مذکور