قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے، اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا تو اس کی مثال اس ڈرائیور کی ہے جو اپنی زندگی کی گاڑی پوری رفتار سے چلا تو رہا ہے؛ لیکن اس کی رہنمائی کے لئے داہنے بائیں جو نشانات اس کو صحیح راہ بتانے اور خطرات سے آگاہ کرنے کے لئے لگے ہوئے ہیں ، ان سے وہ بالکل بے پروا اور بے خبر ہے، ایسا ڈرائیور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اپنی گاڑی کسی کھڈ میں گرائے‘‘۔ (تدبر قرآن ۶؍۵۳)
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تفصیل کے باوجود علامہ عثمانی کے تفسیری نکات بھی قارئین کے سامنے پیش کردئے جائیں ۔ آیت کے ذیل میں وہ رقم طراز ہیں :
’’نماز کا برائیوں سے روکنا دو معنی میں ہوسکتا ہے، ایک بطریق تسبب، یعنی نماز میں اللہ تعالیٰ نے خاصیت وتاثیر یہ رکھی ہو کہ نمازی کو گناہوں اور برائیوں سے روک دے، جیسے کسی دوا کا استعمال کرنا بخار وغیرہ امراض کو روک دیتا ہے، اس صورت میں یاد رکھنا چاہئے کہ دوا کے لئے ضروری نہیں کہ اس کی ایک ہی خوراک بیماری کو روکنے کے لئے کافی ہوجائے، بعض دوائیں خاص خاص مقدار میں مدت تک التزام کے ساتھ کھائی جاتی ہیں ، اس وقت ان کا نمایاں اثر ظاہر ہوتا ہے بشرطیکہ مریض کسی ایسی چیز کا استعمال نہ کرے جو اس دوا کی خاصیت کے منافی ہو، پس نماز بھی بلاشبہ بڑی قوی التاثیر دوا ہے جو روحانی بیماریوں کو روکنے میں اکسیر کا حکم رکھتی ہے، ہاں ضرورت اس کی ہے کہ ٹھیک مقدار میں اس احتیاط کے ساتھ جو اطبائے روحانی نے تجویز کیا ہو، خاص مدت تک اس پر مواظبت کی جائے۔ اس کے بعد مریض خود محسوس کرے گا کہ نماز کس طرح اس کی پرانی بیماریوں اور برسوں کے روگ کو دور کرتی ہے، دوسرے معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ نماز کا برائیوں سے روکنا بطور اقتضاء ہو یعنی نماز کی ہر ایک ہیئت اور اس کا ہر ایک ذکر مقتضی ہے کہ جو انسان ابھی بارگاہِ الٰہی میں اپنی بندگی، فرماں برداری، خضوع وتذلل، اور حق تعالیٰ کی ربوبیت، الوہیت اور حکومت وشہنشاہی کا اظہار واقرار کرکے آیا ہے، مسجد سے باہر آکر بھی بدعہدی اور شرارت نہ کرے اور اس شہنشاہ مطلق کے احکام سے منحرف نہ ہو، گویا نماز کی ہر ایک ادا مصلی کو پانچ وقت حکم دیتی ہے کہ او بندگی اور غلامی کا دعویٰ کرنے والے! واقعی بندوں اور غلاموں کی طرح رہ، اور بزبان حال