واضح فرمادیا گیا کہ جو اہل ایمان اپنی کمر، سر، جبین کو جھکانے کے ساتھ ہی اپنے دل بھی اللہ کے سامنے جھکادیتے ہیں اور ان کا ہرہر عضو عبدیت کے قالب میں ڈھل جاتا ہے، وہی اصلاً نماز کی اصل روح حاصل کرتے ہیں ، ان کو قرآن فائز المرام اوردنیوی واخروی لحاظ سے فلاح یاب وبامراد قرار دے رہا ہے، آگے ان کی زندگی پر ان کی روحانی وربانی نماز کی تاثیر بیان ہورہی ہے کہ نماز حقیقی کے نتیجہ میں ہر اس قول وعمل سے گریز کرتے ہیں جو زندگی کے اصل مقصود رضائے الٰہی سے غافل بنانے والا ہو۔
اسی کو ایک جگہ یوں بیان کیا گیا ہے:
اِنَّ الصَّلاَۃَ تَنْہیٰ عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ، وَلَذِکْرُ اللّٰہِ أَکَبْرُ۔ (العنکبوت: ۴۵)
ترجمہ: بلاشبہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے۔
اس دنیا میں جتنے بھی اخلاقی مفاسد ہوسکتے ہیں ان سب کو ’’فحشاء اور منکر‘‘ کے الفاظ محیط ہیں ۔ شہوانی جذبات کے انحراف یا بے اعتدالی سے وجود پذیر ہونے والی برائیاں ’’فحشاء‘‘ کہلاتی ہیں اور حرص وطمع کی بے اعتدالی، حب مال وجاہ کے افراط، نیک سماج کی پاکیزہ اقدار وروایات اور مشہور ومعروف مسلمات کی خلاف ورزی سے پیدا ہونے والی برائیاں ’’منکر‘‘ میں شامل ہیں ۔ آیت واضح کررہی ہے کہ ایسی تمام برائیوں سے روکنے میں نماز کے سوا دنیا میں کوئی بھی ایسا نظام تربیت نہیں جو مؤثر ہوسکے، صرف نماز ہی ہے جو ان تمام برائیوں سے روکتی ہے۔ بقول مولانا اصلاحی:
’’نماز کی حیثیت ایک نہایت مؤثر واعظ وزاجر کی ہے، جو لوگ نماز کو اس کے آداب وشرائط کے ساتھ ادا کرتے ہیں ، خواہ خلوت کی نماز ہو یا جلوت کی، ان کی نماز اپنے ظاہر وباطن دونوں سے ان حقائق کی یاددہانی کرتی رہتی ہے، جن کی یاد دہانی زندگی کو صحیح شاہراہ پر