اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کا وقت ٹال کر پڑھتے ہیں اور اس کے وقت کو ضائع کرتے ہیں ۔ (تفسیر ابن جریر بروایت حضرت سعد بن ابی وقاصؓ)
آیت کے ذیل میں مولانا اصلاحی نے بڑی عمدہ بات تحریر کی ہے:
’’یہاں غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ان کی نمازوں کے بے روح وبے جان ہونے پر دو چیزوں سے دلیل قائم کی ہے، ایک ان کی ریاکاری سے دوسرے ان کی خسّت سے، نماز کی اصل حقیقت اخلاص ہے، اس کے سوا اگر کوئی اور غرض اس میں شامل ہوجائے تو نماز بالکل باطل اور اپنے اصل مقصد کے اعتبار سے نہ صرف بے نتیجہ؛ بلکہ نہایت مہلک ہوتی ہے، ان لوگوں کی نمازیں اول تو ان کے فسادِ عقیدہ کے سبب سے اخلاص سے محروم تھیں ۔ ثانیاً وہ پڑھتے بھی محض دکھاوے ہی کے لئے تھے، اس طرح کی نماز ظاہر ہے کہ محض ایکٹنگ ہوتی ہے جس کا زندگی کے حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوا کرتا، جس طرح کسی ڈرامے میں مجنوں کا پارٹ ادا کرنے سے کوئی مجنوں نہیں بن جاتا۔ اسی طرح اس قسم کے لوگ مسجد میں آجانے اور رکوع وسجود اور قیام وقعود کی نمائش کردینے سے نمازی نہیں بن جاتے۔ علاوہ ازیں ان لوگوں کی خسّت بھی اس بات کی دلیل تھی کہ ان کی نمازیں بالکل بے روح وبے جان ہیں ، نماز کی اصل روح اپنے رب کی شکر گذاری ہے، جو بندہ اپنے رب کا شکر گذار ہوتا ہے وہ خسیس ولئیم نہیں ہوتا؛ بلکہ فیاض وکریم ہوتا ہے۔ فلسفۂ دین کے اعتبار سے جذبۂ شکر کی تحریک سے سب سے پہلے نماز وجود میں آتی ہے اور پھر نماز انفاق کے لئے محرک بنتی ہے، اور پھر انہیں دو چیزوں پر شریعت کا پورا نظام قائم ہے‘‘۔ (تدبر قرآن ۹؍۵۸۴-۵۸۵)
دوسری طرف ایمانی اور ربانی نماز ہے، اس کا ذکر قرآنِ کریم کرتا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلاَ تِہِمْ خَاشِعُوْنَ۔ وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ۔ (المؤمنون: ۱-۳)
ترجمہ: وہ اہل ایمان فلاح یاب ہیں جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں ، اور جو لغویات سے احتراز کرتے ہیں ۔