دوسری جگہ فرمایا گیا:
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ۔ الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلوٰتِہِمْ سَاہُوْنَ۔ الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَآئُ وْنَ وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۔ (الماعون: ۴-۷)
ترجمہ: تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں ، جو ریا کاری کرتے ہیں ، اور ادنیٰ چیزوں میں بھی بخل کرتے ہیں ۔
نماز سے غفلت کے معنی یہ ہیں کہ نماز کو غیر اہم سمجھتے ہیں ، کبھی پڑھتے ہیں ، کبھی نہیں ، دنیوی امور میں مشغول ہوکر دانستہ نماز چھوڑدیتے ہیں ، جب پڑھتے بھی ہیں تو بے دلی کے ساتھ بادل ناخواستہ مصیبت سمجھ کر ٹالتے ہیں ، نماز میں جسم ولباس سے کھیلتے ہیں ، ذکر الٰہی اور خوفِ ربانی سے محروم ہوتے ہیں ، نماز اتنی جلدی پڑھتے ہیں جیسے ٹھونگیں مار رہے ہوں ، نماز میں کیا پڑھا؟ کچھ خیال نہیں رہتا، دل دنیا کے کاروبار میں معلق رہتا ہے، بس نمازی کی شکل ہوتی ہے، نماز کی اصل روح مفقود ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
تِلْکَ صَلاَۃُ الْمُنَافِقِ، یَجْلِسُ یَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتّٰی اِذَا اصْفَرَّتْ وَکَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعاً لاَ یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْہَا اِلاَّ قَلِیْلاً۔ (صحیح مسلم)
ترجمہ: یہ منافق کی نماز ہے، وہ عصر کے وقت بیٹھا سورج کو دیکھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہوتا ہے (یعنی قریب الغروب ہوتا ہے) تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مارلیتا ہے، جن میں اللہ کو بہت کم یاد کرتا ہے۔
سورۂ ماعون کی مذکورہ آیت کی تفسیر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ