ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں۔ مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔ کیونکہ وہ خداتعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا شرف رکھتا ہے اور امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوتے ہیں۔‘‘
(توضیح المرام ص۱۷، خزائن ج۳ ص۶۰)
جن کی یہ تائید کی گئی ہو۔ لیکن جن کے دلوں پر مہریں ہیں وہ خدا کے نشانوں سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۹، خزائن ج۲۲ ص۵۸۷)
(۴)’’ان پر واضح ہو کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ کے قائل ہیں اور آنحضرتﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت ہے۔ جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور بہ اتباع آنجنابﷺ اولیاء کو ملتی ہے۔ اس کے ہم قائل ہیں۔ غرض کہ نبوت کا دعویٰ اس طرف سے بھی نہیں۔ صرف ولایت اور محدث کا دعویٰ ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات حصہ دوئم ص۲۹۷،۲۹۸)
(۴)’’خدا نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘ (گویا از ۱۸۹۱ء تا ۱۹۰۸ء ہرروز چھ نشان ظاہر ہوئے)
(تتمہ حقیقت الوحی ص۹۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)
(۵)’’میں جانتا ہوں کہ ہر چیز جو مخالف ہے قرآن کے وہ کذب الحاد وزندقہ ہے۔ پھر میں کس طرح نبوت کا دعویٰ کروں۔ جب کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔‘‘
(حمامتہ البشریٰ ص۱۳۱، خزائن ج۷ ص۲۹۷)
(۵)’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘ (ملفوظات ج۱۰ ص۲۲۷)
(۶)’’نبوت کا دعویٰ نہیں۔ محدث کا دعویٰ ہے جو خداتعالیٰ کے حکم سے کیاگیا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام طبع اوّل ص۴۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۰)
(۶)’’اور خداتعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں دکھائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۷، خزائن ج۲۲ ص۵۷۵)