۶… ’’مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی مسجد ہے۔ جو قادیان میں واقع ہے… … معراج میں جو آنحضرتﷺ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرماہوئے تھے وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں جانب شرق واقع ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج سوم ص۲۸۹)
باب نمبر:۱۲ … مرزا قادیانی کا متضاد کلام
قرآن مجید نے اپنی صداقت میں ایک دلیل پیش کی ہے’’ولوکان من عند غیر اﷲ لوجدو فیہ اختلافاً کثیرا (النسائ:۸۲)‘‘ یعنی اگر وہ اﷲ کے سوا کسی دوسرے کا کلام ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے اور واقعی یہ ایک زریں اصول ہے۔ اور خدا کا کلام بہرحال اختلاف سے پاک ہونا چاہئے۔ لیکن اگر انسانی کلام میں بھی اختلاف وتناقص پایا جائے تو فوراً ہمیں فتویٰ دینا پڑے گا کہ یہ کسی معقول اور راست گو آدمی کا کلام نہیں۔ بلکہ حافظ بتاشہ کا کرشمہ ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود ہی تحریر فرماتے ہیں:
’’وہ ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متضاد باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘ (ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ص۱۴۳)
اب اس اصول کو خوب ذہن نشین کرلیجئے جو مرزا قادیانی نے خود ہی ہمیں بتایا ہے اور پھر ان کے کلام میں تناقص دیکھئے:
۱…’’ایسی مثال دینے والا ایک سادہ لوح آدمی ٹھہرتا ہے جس کو خبر نہیں کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مشابہت تامہ ضروری ہے۔‘‘
(ست بچن ص ب، خزائن ج۱۰ص۳۰۲)
۱…’’تشبیہات میں پوری طبیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ ……الخ۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۵، خزائن ج۳ص۱۳۸ح)
۲…’’عیسیٰ نبی اﷲ وفات یافتہ است وازیں دینا برداشتہ شدہ بآاناں پیوست کہ فوت شدہ اندوبازگررددینار نخواہد آمد ۔ یعنی عیسیٰ مرچکے اور دنیا سے اٹھائے گئے۔ پھر دنیا میں واپس نہیں آئیں گے۔‘‘
(انجام آتھم ص۸۰، خزائن ج۱۱ص۸۰)
۲…’’جب عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ص۵۹۳)