۳…’’عیسیٰ مرگیا اور اس کی قبر سری نگر میں ہے۔‘‘
(رسالہ المہدی ص۱۱۷، خزائن ج۱۸ص۳۶۱)
۳…’’یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جاکر فوت ہوا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۴۷۳، خزائن ج۳ص۳۵۳)
۴… ’’من نیستم رسول نیا وردہ ام کتاب۔ یعنی میں رسول نہیں ہوں اور نہ ہی میں کوئی کتاب لے کر آیا ہوں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۸، خزائن ج۳ص۱۸۵)
۴… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ص۲۳۱)
۵…’’میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں لاالہ اﷲ کا قائل ہوں۔ مدعی نبوت کو خارج از اسلام سمجھتا ہوں۔‘‘
(آسمانی فیصلہ ص۳، خزائن ج۴ص۳۱۳)
’’قرآن کریم اور بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ نیا رسول ہو یا پرانا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۶۱، خزائن ج۳ص۵۱۱)
۵… ’’ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں عیسائیوں ہندوئوں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اس لئے کہ ان میں کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرتے۔ کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے۔ ہم پر کئی سال سے جو وحی نازل ہورہی ہے اور اﷲ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی ہیں۔‘‘ (بدر مارچ ۱۹۰۸ئ، ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)
۶… ’’اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح علیہ السلام پر فضیلت دی ہے۔ کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو ایک غیر نبی کو نبی پر ہوسکتی ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ص۴۸۱)
’’آنے والا مسیح واقعی اور حقیقی طور پر نبوت تامہ کی صفت سے متصف نہیں ہوگا۔ ہاں نبوت ناقصہ اس میں پائی جائے گی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۵۳۲، خزائن ج۳ص۳۸۶)
۶… ’’خدا نے اسی امت میں سے مسیح موعود کو بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ص۱۵۲)