یقین کامل ہے کہ گذشتہ صفحات میں جو کچھ احاطہ تحریر میں لایا گیا ہے۔ اس سے آپ پورے طور پر مطمئن ہوگئے ہوںگے۔ اب آخر میں آپ کو تفریح طبع کے لئے مرزاقادیانی کے کچھ اور دعویٰ زینت قرطاس کئے دے رہا ہوں اور جن کے لئے عرض ہے۔ بقول شخصے ؎
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
۱… ’’میں خدا کا باپ ہوں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۹۵، خزائن ج۲۲ ص۹۹)
۲… ’’خدا کا بیٹا ہوں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹)
۳… ’’خدا کا نطفہ ہوں۔‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۳۶،۴۳، خزائن ج۱۷ ص۳۸۵)
۴… ’’خدا کی بیوی ہوں۔‘‘ (اسلامی قربانی ص۱۲)
۵… ’’خدا نے میرے ساتھ رجولیت کا اظہار فرمایا اور اس عمل سے میری حالت ناقابل بیان ہوگئی۔‘‘ (اسلامی قربانی ص۳)
۶… ’’خدا کے مانند ہوں۔‘‘ (اربعین نمبر۳ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳ حاشیہ)
۷… ’’میرا بیٹا مثل خدا ہے۔ گویا خدا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۹۵، خزائن ج۲۲ ص۹۹)
۸… ’’مونث ہوں مجھے حیض آتا ہے۔‘‘ (کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۴۵۰)
۹… ’’مذکر ہوں مجھے شہوت ہوتی ہے۔‘‘ (تذکرہ ص۱۹۷)
۱۰… ’’کرم خاکی ہوں۔‘‘ (براہین احمدیہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷)
۱۱… ’’آدم بھی ہوں۔ یعنی پیغمبر۔‘‘
۱۲… ’’اولاد آدم بھی نہیں ہوں۔‘‘ (براہین احمدیہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷)
۱۳… ’’بشر کی جائے نفرت ہوں۔‘‘ (براہین احمدیہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷)
۱۴… ’’انسانوں کی عار ہوں۔‘‘ (براہین احمدیہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷)
۱۵… ’’پچاس مردوں کی قوت باہ رکھتا ہوں۔‘‘
۱۶… ’’نامرد ہوں۔‘‘ (تریاق القلوب ص۳۶، خزائن ج۱۵ ص۲۰۴)
۱۷… ’’مجھے روزانہ سو سو دفعہ پیشاب آتا ہے۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۱)