’’ہے کرشن رودر گوپال تیری مہما ہواستنی گیتا میں موجود ہے۔‘‘
(تذکرہ ص۴۲۰، روایت نمبر۲۱۸)
ایک دفعہ الہام ہوا۔ ’’امین الملک جے سنگھ بہادر۔‘‘ (تذکرہ ص۶۷۲، روایت نمبر۱۲۴۳)
ایک دفعہ مرزاقادیانی نے ’’ایک حاکم سے دستخط کرائے اور فرمایا۔ یہ مٹھن لال ایک فرشتہ ہے۔‘‘ (تذکرہ ص۵۶۱، روایت نمبر ۱۰۲۶)
ایک فرشتہ نے مرزاقادیانی کو روپے عنایت فرمائے۔ ’’اس فرشتہ کا نام ٹیچی ٹیچی تھا۔ یعنی عین وقت پر آنے والا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۳۲، خزائن ج۲۲ ص۳۴۵،۳۴۶)
مرزاقادیانی کا ایک الہام ہے۔ ’’مرزاغلام احمد کی جے۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ص۷۲۳، روایت نمبر ۱۳۴۵)
جبکہ خود خدائے تعالیٰ نے مرزاقادیانی کو کرشن رودرگوپال جے سنگھ بہادر کے نام موسوم فرمائے اور مرزاقادیانی کے فرشتوں کے نام ٹیچی ٹیچی اور مٹھن لال اور خیراتی وغیرہ ہیں۔ علاوہ ازیں مرزائیوں کے خلیفہ اوّل مرزامحمودقادیانی خود بھی مسلمانوں کے سے نام رکھوا کر خوش نہیں۔ جیسا کہ درج ذیل بیان سے ظاہر ہے۔ مرزامحمد ابوسعید سپرنٹنڈنٹ ریلوے پولیس کو ایک سکھ نے قتل کر دیا تھا۔ اس پر مرزامحمود گلفشانی فرماتے ہیں۔ ’’قاتل نے اس تحریک کا اثر لیا۔ جو سکھوں میں مسلمانوں کے خلاف پیدا کی جارہی ہے اور سمجھا جس پر حملہ کرنے لگا ہوں وہ ابوسعید ہے۔ یہ نہ سمجھا کہ احمدی ہے۔ اس نے مسلمان سمجھ کر قتل کر دیا۔ اگر سکھ کو یہ معلوم ہوتا کہ یہ احمدی ہے مسلمان نہیں ہے تو پھر قتل نہ کرتا۔‘‘ (بیان مرزامحمود الفضل مورخہ ۱۵؍جون ۱۹۴۶ئ)
مرزاغلام احمد قادیانی فرماتے ہیں۔ میرے کاتب الوحی کا نام سندر لال ہے۔ اکثر لوگوں نے جب اس پر اعتراض کیا کہ مرزاقادیانی سندرلال سے اس قدر مانوس کیوں ہیں اور یہ ان کے ساتھ کیوں رہتا ہے۔ جواب میں مرزاقادیانی نے کہا کہ بعض دفعہ مجھے وحی سنسکرت میں آتی ہے۔ لہٰذا سنسکرت کو سمجھنے کے لئے ایک ہندو کاتب الوحی کا میرے ساتھ ہونا ضروری ہے۔
مندرجہ بالا دلائل کی موجودگی میں کیا ہماری یہ رائے درست نہیں کہ مرزائی اپنے نام وہی تجویز کر لیں جن کا ذکر ہم اپنے کتابچہ میں کر آئے ہیں۔ یعنی اکنی لال، دونی لال، چونی لال اور اٹھنی لال۔ جب کہ مرزامحمود قادیانی اپنے ۲۱؍اگست ۱۹۱۷ء کے ایک بیان میں فرمارہے ہیں۔ ہمارا مسلمانوں سے کسی قسم کا تعلق نہیں۔ مسلمانوں کا اسلام اور ہمارا اسلام اور۔ ان کا خدا اور ہمارا خدا اور۔ ہمارا حج اور ان کا اور۔ غرض اسی طرح ہمارا اختلاف ہر بات میں ہے۔