اس میں اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو پادری لکھا گیا ہے تو اس میں کون سی تعجب وتوہین کی بات ہے۔ مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو پادریوں کے رنگ میں پیش کیا ہے۔ تحریر فرماتے ہیں: ’’یہ دعاگو جو دنیا میں عیسیٰ مسیح کے نام پرآتا ہے۔‘‘ (تحفہ قیصریہ ص۳، خزائن ج۱۲ ص۲۵۵)
اور نیز اسی کتاب کے (ص۲۰، خزائن ج۱۲ ص۲۷۲) پر تحریر فرماتے ہیں۔ ’’چونکہ اس نے مجھے یسوع کے رنگ میں پیدا کیا تھا اور توارد طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی تھی۔‘‘
نیز ملاحظہ ہو (ص۲۱، خزائن ج۱۲ ص۲۷۳) ’’میں وہ شخص ہوں۔ جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کو روح سکونت رکھتی ہے۔‘‘ نیز اپنی کتاب (تریاق القلوب ص ۳۷۱، خزائن ج۱۵ ص۴۹۹) میں تحریر کرتے ہیں۔ ’’سو ایسا ہی میں بھی مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب سے پیار کرتا ہوں۔ اس خدا کی تعریف جس نے مجھے مسیح ابن مریم بنایا۔‘‘(حقیقت الوحی ص۷۲، خزائن ج۲۲ ص۷۵)
مندرجہ بالا تحریر سے صاف واضح ہورہا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی مسیحیت کے اتنا قریب ہے اور زندگی کے ہر گوشہ میں اپنے آپ کو مسیح ثابت کرنے کی کوشش کر رہے۔ ایسے حالات وواقعات کی موجودگی میں مرزاغلام احمد قادیانی کو پادری کہنا کوئی جرم نہیں۔
اعتراض نمبر۵ ص۹، حکومت مغربی پاکستان۔
اب ملک کے تمام مرزائیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے نام بھی مسلمانوں والے نہ رکھیں۔ بلکہ اکنی لال، دونی لال، چونی لال اور اٹھنی لال رکھیں اور مسلمانوں جیسے حلیئے بھی نہ بنائیں تاکہ ہر دیکھنے والا آپ کو مسلمان سمجھ کر دھوکہ سے بچ جائے۔
جواب نمبر۵ ص۹ ناشر فرزند توحید کتابچہ بعنوان مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں
اکنی لال، دونی لال وغیرہ۔ ان جملوں کا سوائے اس کے کوئی مطلب نہیں کہ تمام عالم اسلام متفقہ طور پر مدعی نبوت کاذبہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے چکا ہے اور پاکستان کی متعدد باوقار عدالتیں قانونی طور پر غیر مسلم ٹھہراچکی ہیں تو پھر اس کے سوا آخری چارہ کار اور کیا ہے کہ انہیں ہندوؤں کے نام اختیار کر لینے چاہئیں۔ کیونکہ عدالتوں کے واضح اعلان کے بعد مسلم نام رکھنے کی کوئی وجہ جواز موجود نہیں۔ پھر ہندوؤں کے سے نام رکھنے میں ان کے نزدیک اور بھی کئی ایک پہلو ہیں۔ جنہیں تقدیس کی دولت حاصل ہے۔ مثال کے طور پر مرزاقادیانی فرماتے ہیں۔ ’’یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ نے باربار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔ وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۵۲۲)