ہرگز جرأت نہ ہوتی کہ غیراحمدی دیہات کے علاقے میں کھلم کھلا اپنے تبلیغی مشن پر روانہ ہوتے۔ جب کوئی سرکاری افسر اپنے فرقہ وارانہ عقائد کا علی الاعلان اظہار کرتا ہے۔ جیسے کہ بعض احمدی افسروں نے کیا تو اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ جن تنازعات میں اس کی جماعت کا کوئی ایک فرد فریق ہو۔ ان میں اس کی غیر جانبداری پرکسی کو اعتماد نہیں رہتا۔ اس کا فیصلہ کتنا ہی صحیح اور دیانتدارانہ ہو۔ لیکن اگر وہ اس فریق کے خلاف ہو جو اس افسر کی جماعت سے تعلق نہ رکھتا ہو۔ تو اس کو یہ یقین دلانا غیر ممکن ہے کہ اس کو فرقہ وار وجوہ کی بناء پر ناانصافی کا شکار نہیں بنایا گیا۔ لہٰذا ان افسروں کا طرز نہایت افسوس ناک تھا اور اس امر کا مظہر تھا کہ وہ اس اصول کے فہم سے بالکل قاصر ہیں۔ جس کے ماتحت کسی افسر کو اپنا ظاہری رویہ معین کرنا چاہئے۔ لہٰذا ہمیں یقین ہے کہ اگرچہ احمدی براہ راست فسادات کے ذمہ دار نہیں۔ لیکن ان کے خلاف عام شورش کا موقع خود ان ہی کے طرز عمل نے بہم پہنچایا۔‘‘ (ماخوذ انکوائری رپورٹ فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء اردو ایڈیشن)
اعتراض نمبر۳ ص۶،۷، حکومت مغربی پاکستان
اگر آپ مسلمانان عالم کے جذبات کو مجروح کر کے چوہدری ظفر اﷲ خاں کو ہی ہمارے سروں پر مسلط رکھنا چاہتے ہیں تو اس کی آسان صورت یہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
جواب نمبر۳ ص۶،۷، ناشر فرزند توحید کتابچہ بعنوان مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
اس عبارت کا ہر گز ہرگز یہ منشاء نہیں کہ صدر محترم خوانخواستہ دیدہ ودانستہ مسلمانان عالم کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چوہدری ظفر اﷲ کو بحیثیت مسلمان کسی عہدہ پر متمکن رہنے دینا مسلمانان عالم کے جذبات کو مجروح کر دینے کے مترادف ہے۔ اگر چوہدری ظفر اﷲ کو کسی خصوصی تعلق کی بناء پر رکھنا چاہتے ہیں تو اس کی آسان ترکیب یہ ہے کہ قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا جائے اور جس حد تک قادیانیوں کے غیر مسلم قرار دینے کا تعلق ہے اس میں مسلمانوں کے تمام فرقے متفق الرائے ہیں۔ حکیم الامت حضرت اقبالؒ نے پنڈت نہرو کے جواب میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے وہ تمام دنیا پر ظاہر ہے۔ پنجاب مسلم لیگ اپنے ایک اجلاس میں اس کا دوٹوک فیصلہ کر چکی ہے۔ (ملاحظہ ہو منیر رپورٹ ص۲۸۲، مفصل ریزولیشن موجود ہے)
اعتراض نمبر۴ ص۸،۹، حکومت مغربی پاکستان۔
اگرچہ صحیح بات کا ماننا آپ کے پادری مرزاغلام احمد قادیانی کے بس کا روگ نہیں ہے۔ جواب نمبر۴ ص۸،۹، ناشر فرزند توحید کتابچہ بعنوان مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں