اقدام کا نتیجہ تھے۔ جو حکومت نے اس پروگرام کے خلاف کیا تھا۔ جو ڈائریکٹ ایکشن کی قرارداد کے ماتحت آل مسلم پارٹیز کنونشن نے اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن مطالبات کا تعلق احمدیوں سے تھا اور وہ مطالبات اس لئے وجود میں آئے تھے کہ احمدیوں کے بعض عقائد اور ان کی سرگرمیاں مخصوص انداز کی تھیں اور وہ دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ اور ممیز ہونے پر زور دے رہے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مطالبات احمدیوں کے عقائد اور ان کی سرگرمیوں ہی کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ لہٰذا یہ معّین کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ آیا فسادات کے اشتعال میں احمدیوں کا بھی کوئی حصہ تھا۔ عامتہ المسلمین کے ساتھ ان کے اختلافات نصف صدی سے زیادہ مدت سے چلے آرہے تھے اور تقسیم سے پیشتر وہ کسی روک ٹوک کے بغیر اپنے پروپیگنڈے اور اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ تاہم قیام پاکستان سے صورت حال بالکل بدل گئی۔ اس کے بعد اگر احمدی یہ سمجھتے تھے کہ اب اسلام کے سوا دوسرے مذہب کی تلقین یا اسلام کے اندر فرقہ وارانہ عقائد کی تبلیغ کی اجازت جن حدود کے اندر دی جائے گی۔ ان کے متعلق اگر وہ کوئی پالیسی وضع نہ کریںگے جب بھی ان کی سرگرمیوں کے خلاف کوئی برہمی پیدا نہ ہوگی اور نئی مملکت میںان سے کوئی تعرض نہ کیا جائے گا۔ تو وہ گویا اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے تھے۔ تاہم بدلے ہوئے حالات کے مطابق ان کی سرگرمیوں اور ان کی جارحانہ نشرواشاعت میں کوئی تغیر پیدا نہ ہوا اور غیر احمدی مسلمانوں کے خلاف دل آزار باتیں برابر کہی جاتی رہیں۔ کوئٹہ میں مرزامحمود احمد قادیانی نے جو تقریر کی وہ نہ صرف نامناسب بلکہ غیر مآل اندیشانہ اور اشتعال انگیز تھی۔ اس تقریر میں انہوں نے بلوچستان کے صوبے کی پوری آبادی کو احمدی بنا لینے اور اس صوبے کو مزید جدوجہد کے مرکز کی حیثیت سے استعمال کرنے کی علی الاعلان حمایت کی۔ اس طرح جب انہوں نے اپنے پیروؤں کو یہ ہدایت کی کہ تبلیغ احمدیت کے پروپیگنڈے کو تیز کر دیں۔ تاکہ ۱۹۵۲ء کے آخر تک پوری مسلم آبادی احمدیت کے آغوش میں آجائے۔ تو گویا مسلمانوں کو تبدیلی مذہب سرگرمیوں کو کھلا نوٹس دے دیا اور جب مرزاغلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والوں کے متعلق دشمن یا مجرم یا محض مسلمان کے الفاظ استعمال کئے گئے تو جن لوگوں کی توجہ ان اشارات کی طرف مبذول کرائی گئی ان کا مشتعل ہو جانا لازمی تھا۔ احمدی افسروں نے لوگوں کو احمدی بنا لینے کی مہم میں ازسرتاپا مصروف ہوجانا اپنا مذہبی فریضہ خیال کیا۔ ان کے اس رویہ کی وجہ سے احمدیوں کو اس امر کا حوصلہ ہوا کہ جہاں کہیں انہیں افسروں کی حمایت تھی یا حاصل ہونے کی توقع تھی۔ وہاں اپنے مقصود کے حصول میں زور شور سے مصروف ہو جائیں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اگر ضلع منٹگمری کا حاکم اعلیٰ احمدی نہ ہوتا تو احمدیوں کو