احمد قادیانی کو ماننے والا کافر ہے اور اس کو سنگسار کر کے ہلاک کر دیا جائے تو وہ اس کے آگے سرتسلیم خم کر دیںگے۔‘‘ (منیر انکوائری رپورٹ ص۳۱۳)
خواجہ صاحت کے اعتقادات مندرجہ بالا عبارت سے بالکل واضح ہیں۔ اس کے باوجود چونکہ پاکستان کی نکیل امریکہ اور برطانیہ کے ہاتھ میں تھی۔ اس لئے انہوں نے سواد اعظم کے متفقہ مطالبات کو نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ جسٹس منیر انکوائری رپورٹ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’خواجہ ناظم الدین نے وفد کو بتلایا کہ میں نے اس مسئلہ پر بہت غور کیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ میرے لئے ان مطالبات کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔ جنوری ۱۹۵۳ء میں انہوں نے ارکان وفد سے کہا کہ اگر میں نے چوہدری ظفر اﷲ کو کابینہ سے برطرف کر دیا تو پاکستان کو امریکہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہیں ملے گا۔‘‘ ناشر رسالہ کے نزدیک خواجہ ناظم الدین مرحوم ؎
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
(اقبالؒ)
کے قائل نہ تھے۔ ناشر رسالہ اس جگہ تعجب انگیز طریقہ سے اظہار کر رہا ہے کہ صدر محترم نے اس خود دارانہ اصول کو ایک شہرہ آفاق کتاب کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ بھی سواد اعظم کے جذبات اور احساسات کے متعلق ناظم الدینؒ سے کوئی مختلف طریقہ عمل اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کے ازلی اور ابدی حاشیہ نشینوں کو پاکستان کے ہر ایک شعبہ میں مسلط فرمادیا ہے اور عامتہ المسلمین کے جذبات اور احساسات آئے دن ان لوگوں کی طرف سے مجروح کئے جارہے ہیں۔
کوئی حقیقت محض اس لئے نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہوتی کہ اس کو تسلیم کرنے والا کوئی نہ ہو۔ حقیقت بہرحال حقیقت ہے۔ ہم اس امر کو واضح الفاظ میں ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ مذکورہ بالا کیفیت نے عوام الناس میں اضطراب وہیجان کی ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے کہ اگر مرزائیوں کی جارحانہ تبلیغ پر کوئی پابندی عائد نہ کی گئی تو اس کے نتائج ملک وقوم اور ملت کے لئے کبھی مبارک ثابت نہ ہوںگے۔ بہت ممکن ہے کہ مرزائی جماعت کی اشتعال انگیزیوں کے نتیجہ میں ۱۹۵۳ء کے حالات پیدا ہو کر رہ جائیں۔ وہ حالات کس طرح پیدا کئے گئے تھے۔ اس کی مفصل روئیداد مندرجہ ذیل سطور سے بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے۔ ملاحظہ ہو انکوائری رپورٹ۔
’’احمدی براہ راست فسادات کے ذمہ دار نہ تھے۔ کیونکہ فسادات حکومت کے اس