سے دو تین ہزار احمدی ہیں۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم ازکم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں) پاکستان میں یہ اسرائیلیوں کی طرح اپنی حکومت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
اکھنڈ ہندوستان رہے گا اور پاکستان کا وجود عارضی ہے
’’حضور نے اپنا ایک رویأ بیان فرمایا جس میں ذکر تھا کہ گاندھی جی آتے ہیں اور ایک چارپائی پر لیٹنا چاہتے ہیں اور ذرا سی دیر لیٹنے پر اٹھ بیٹھے اس کی تعبیر میں حضور نے فرمایا کہ اﷲتعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں۔ تاکہ احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے۔ چنانچہ اس رویا میں اسی طرف اشارہ ہے۔ ممکن ہے عارضی طور پر افتراق ہو۔ (اسی لئے جماعت احمدیہ کا الہامی عقیدہ ہے کہ پاکستان کا وجود عارضی ہے) اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں گی۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔
(الفضل، مغربی پاکستان حکومت کا اعتراض نمبر۲ ص۶)
خدا جانے وہ کون سی قوت حاکمہ ہے جو آپ کو مجبور کرتی ہے کہ آپ چوہدری ظفر اﷲ کو ہی اتنی بڑی ذمہ داری سونپتے ہیں۔ اقوام عالم ہمارے متعلق کیا رائے قائم کریںگی کہ جس ملک نے ۱۹۵۳ء میں اپنے ہزاروں عوام کا خون بہا کر سر محمد ظفر اﷲ خاں کو اس عہدہ سے الگ کرایا تھا۔ آپ نے پھر اقوام متحدہ کا نمائندہ بنا کر ازسر نو ایک نئے فساد کی بنیاد رکھی۔
(جواب نمبر۲ ص۶، ناشر فرزند توحید وکتابچہ بعنوان مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں)
یہ عبارت خاص طور پر اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ناشر رسالہ اس کو بہت ہی تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ سابقہ حکومتوں کے متعلق تو یہ قیاس آرائی کی جاسکتی تھی کہ ان کا رکوع وسجود، قیام وقعود امریکہ اور برطانیہ کے چشم وابر وکار ہین منت تھا۔ جس کے متعلق سردار بہادر خان کی شہادت نہایت واضح ہے کہ ۱۹۵۸ء تک امریکہ پاکستانی سیاستدانوں کو تگنی کا ناچ نچاتا رہا۔ ورنہ یہ کوئی وجہ نہ تھی کہ خواجہ ناظم الدین مرحوم اپنے مخصوص معتقدات کی بناء پر جو سواد اعطم کے ساتھ سو فیصدی مطابقت رکھتے تھے اور وہ مدعی نبوت کاذبہ کو صدق دل سے اسلام کی مرکزیت کے خلاف گردانتے تھے۔ انکوائری کورٹ میں مرحوم نے اپنے عقائد کا جس دریادلی کے ساتھ اعتراف کیا ہے۔ اس کے متعلق جسٹس منیر رقم طرز ہیں۔
’’خواجہ صاحب کا اپنا عقیدہ یہ تھا کہ اگر نوے فیصد علماء اس پر اتفاق کر لیں کہ مرزاغلام